سن اخبار کے رپورٹر کو ’خبر‘ کے لیے رقم دینے پر سزا

اینٹنی فرانس تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سن اخبار کے رپورٹر نے الزمات کی تردید کی ہے

برطانوی اخبار ’سن‘ کے رپورٹر کو انسدادِ دہشت گردی کے ایک افسر کو اندرونی معلومات حاصل کرنے کے لیے رقم دینے پر 18 ماہ کی معطل سزا سنائی گئی ہے۔

واٹفورڈ سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ اینٹنی فرانس کو پی سی ٹمتھی ایڈورڈز کو غلط کام کرنے پر مجبور کرنے کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔

اولڈ بیلی عدالت میں بتایا گیا کہ فرانس نے ہیتھرو ایئرپورٹ کے افسر کے ساتھ چار سال سے زیادہ عرصے سے ’بدعنوانی پر مبنی تعلقات‘ قائم کیے ہوئے تھے۔

وہ پہلے صحافی ہیں جنھیں جیوری نے کسی افسر کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقم دینے پر مجرم قرار دیا ہے۔

مقدمے کے دوران بتایا گیا کہ کس طرح پی سی ایڈورڈز نے مارچ 2008 سے جولائی 2011 کے دوران فرانس کو 22,000 پاؤنڈ کے عوض 38 خبریں اور معلومات بیچیں۔

جج ٹمتھی پونٹیئس نے رپورٹر کو 18 ماہ کی سزا سنائی جسے دو سال تک معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں 200 گھنٹے کمیونٹی سروس کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

انھوں نے صحافی کے متعلق کہا کہ ان کا دامن ابھی تک ’بے عیب‘ تھا اور وہ ’بنیادی طور پر ایک مضبوط کردار کے انسان تھے۔‘

جج نے کہا کہ کچھ مضامین جو کہ رقومات دینے کے بعد لکھے گئے بڑی حد تک عوامی مفاد میں تھے، جن میں ایئرلائن کے شرابی پائلٹوں اور منشیات کے سمگلروں کے بارے میں خبریں بھی شامل تھیں۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ کئی ایسی خبریں بھی تھیں جو صرف ان کے فحش مواد کے لیے شائع کی گئی تھیں۔

جج نے کہا کہ فرانس کے رقومات دینے کا طریقہ ’سن‘ اخبار میں کچھ عرصے سے رائج تھا اور اسے ایک قابلِ قبول طریقہ سمجھا گیا تھا۔

رقومات کی منتقلی بھی ایک طے شدہ طریقے سے کی گئی اور ایسا نہیں تھا کہ فرانس نے کسی پب کے اندھیرے کونے میں کوئی ’میلا کچیلا لفافہ‘ پی سی ایڈورڈز کو دیا ہو۔

جج پونٹیئس نے کہا کہ اگر کوئی غلط کلچر تھا، جیسا کہ جیوری نے سمجھا ہے، تو یہ فرانس نے نہیں بنایا تھا۔ ’یہ لامحالہ طور پر دوسروں نے اپنے فائدے کے لیے بنایا تھا۔‘

فرانس، جو الزمات کی تردید کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ سن اخبار میں کسی نے انھیں نہیں کہا کہ پولیس اففسر یا سرکاری افسر سے بات کرنا غیر قانونی ہے۔

پی سی ایڈورڈز کو 2014 میں دو سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں