’اسرائیل کی دفاعی امداد میں اضافے کا امکان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ امریکی انتظامیہ نے سنہ 2007 میں اسرائیل کے ساتھ ایک دس سالہ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے اس مدت کے دوران 30 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی جانا تھی

اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات پر اسرائیلی کے خدشات کے پیشِ نظر اسرائیل کی دفاعی امداد میں 2017 کے بعد اضافہ کر دیا جائے گا۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق اس وقت امریکہ ہر برس اسرائیل کو تین ارب ڈالر کی جو فوجی امداد فراہم کرتا ہے اس کی معیاد سنہ 2017 میں ختم ہو جائے گی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے معاہدے پر بات چیت کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کے بعد امریکہ اوسطاً ہر سال اسرائیل کو تین ارب 60 کروڑ اور تین ارب 70 کروڑ ڈالر کے درمیان امداد فراہم کرے گا۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی اہلکار نے بھی نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت امریکہ ہر سال ساڑھے تین ارب سے لے کر چار ارب ڈالر کے درمیان امداد دیا کرے گا۔ اہلکار کے بقول ’ایران کے ساتھ امریکہ کے معاہدے کے بعد ہماری طرف سے جس غصے کا اظہار کیا گیا تھا امریکہ اس آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

امریکہ کے ساتھ نئے معاہدے کی اطلاعات پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامن نتن یاہو نے اگرچہ اس بات کی تصدیق کی کہ نئے معاہدے پر امریکیوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ امداد میں اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایران کے خلاف اپنی مہم روک دیں گے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کے بدلے میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ میں ایران کے ساتھ امریکہ کی ڈیل کو قبول کر لوں گا۔ ایران کے ساتھ معاہدہ ایک برا معاہدہ ہے اور ہم اس کی مخالفت جاری رکھیں گے۔‘

لیکن واشنگٹن میں صدر اوباما کے ترجمان برائے قومی سلامتی الیسٹر باسکی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امداد میں اضافے کے معاہدے کی ’اطلاعات بالکل غلط نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’معاہدے کے بدلے میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ میں ایران کے ساتھ امریکہ کی ڈیل کو قبول کر لوں‘

ترجمان کے بقول ’اگرچہ آنے والے دنوں میں ہمیں توقع ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس مسئلے پر بات ہو گی کہ کیسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیسے بنایا جا سکتا ہے، لیکن ماضی قریب میں دونوں ملکوں کے سینیئر اہلکاروں کے درمیان اس مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

امریکی وزارتِ دفاع نے ان اطلاعات پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ امریکی انتظامیہ نے سنہ 2007 میں اسرائیل کے ساتھ ایک دس سالہ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے اس مدت کے دوران 30 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی جانا تھی اور یہ لازمی تھا کہ اسرائیل اس رقم کا بڑا حصہ امریکی فوجی ساز وسامان کی خریداری پر خرچ کرے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل کے دفاعی میزائل سسٹم کے لیے بھی کروڑوں ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔

تقریباً ایک برس پہلے جب دونوں ممالک کے درمیان امداد میں اضافے پر بات چیت ہو رہی تھی تو ایک امریکی اہلکار نے کہا تھا کہ اسرائیل امداد میں خاطر خواہ اضافے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکہ کے اندر اخراجات میں کمی کی مہم کو مدنظر رکھا جائے تو نہیں لگتا کہ اوباما انتظامیہ افراطِ زر میں اضافے سے پڑنے والے فرق سے زیادہ امداد اسرائیل کو دے گا۔

اسی بارے میں