بحیرۂ روم سے تین ہزار سے زائد تارکین وطن کو بچا لیا گيا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اٹلی کے کوسٹ گارڈ کے مطابق انھیں جمعے کو 17 مختلف کشتیوں سے پریشانیوں کی اطلاعات ملیں

اٹلی کے کوسٹ گارڈ نے کہا ہے انھوں نے جمعے کو بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3,300 سے زیادہ تارکین وطن کو بچانے میں اپنی خدمات انجام دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک تلاش مہم کے دوران انھیں تین کشتیوں سے 17 لاشیں ملیں جبکہ ان کے علاوہ کشتیوں پر سوار 217 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

اطالوی کوسٹ گارڈ نے کہا کہ انھیں جمعے کو 17 مختلف کشتیوں سے پریشانیوں کی اطلاعات ملیں۔

تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم آئی او ایم نے کہا کہ بحیرۂ روم کو عبور کرنے کی کوشش میں رواں سال اب تک کم از کم 1,826 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

آئی او ایم کے مطابق گذشتہ سال اسی دورانیے میں ہونے والی اموات کے مقابلے رواں سال ہونے والی ہلاکتیں 30 گنا زیادہ ہیں۔

اطالوی زبان میں شائع ہونے والے ’کوریئری دیلا سیرا‘ اخبار کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو لیبیا کے ساحل کے قریب بچایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Press Association
Image caption لیبیا کے ساحل سے غیر محفوظ کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کے سفر کرنے سے رواں سال ہلاکتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گيا ہے

اخبار نے بتایا کہ کشتی میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی اس مہم میں آئرلینڈ، جرمنی اور بلجیئم کے جہازوں نے حصہ لیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اپریل کے اواخر تک کم از کم 40 ہزار افراد نے بحیرۂ روم کو عبور کرنے کی کوشش کی ہے۔

تارکین وطن کی تعداد میں اس قدر اضافے کی وجوہا ت میں لیبیا میں انتشار شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سے ترک وطن کے زیادہ تر سفر کا آغاز ہوتا ہے کیونکہ یہاں کا موسم نسبتا معتدل ہے۔

جمعرات کو امدادی ادارے ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے خبر دی کہ ایک کشتی سے ایک 98 سالہ شخص کو بچایا گیا جو کہ مصر سے 13 دن قبل روانہ ہوا تھا۔ انھیں سسلی کے آگسٹا میں بچایا گیا۔

خیال رہے کہ یورپی یونین میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی باز آبادکاری ایک متنازع مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں