’شامی ہیلی کاپٹروں کی بمباری میں درجنوں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ شام میں سرکاری ہیلی کاپٹروں سے بیرل بموں کی بمباری سے ملک کے شمالی صوبے حلب میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی پامالی پر نظر رکھنے والی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ ان میں سے 60 افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سرکاری ہیلی کاپٹروں نے الباب نامی شہر پر حملہ کیا جو کہ ان دنوں دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

تنظیم کے مطابق 12 افراد حلب میں ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ شامی حکومت بارہا اس الزام کی تردید کر چکی ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوئے ڈرم یا بیرل بم استعمال کر رہی ہے۔ لیکن شام کے کئی علاقوں سے اطلاعات میں بتایا جاتا ہے کہ حکومتی فوج آئے دن ایسے بم استعمال کر رہی ہے۔

’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق سنیچر کو کم از کم 60 افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سرکاری ہیلی کاپٹروں نے الباب میں ایک مصروف بازار پر بیرل بم گرائے۔

اطلاعات میں کہا جا رہا ہے اس بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو جائےگا کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت بہت نازک ہے۔

یہ برطانوی تنظیم شام کے مختلف علاقوں میں اپنے کارکنوں کی مدد سے اعداد و شمار اکھٹے کرتی ہے اور سنیچر کے حملے کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری فوج کا اس سال کا سب سے بڑا حملہ تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سنیچر کو حلب میں ایک دوسرے حملے میں بارہ افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب شہر کے اس علاقے پر بمباری کی گئی جو دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے اور یہاں پر ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی گھرانے کے آٹھ افراد شامل ہیں۔

ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور شامی حکومت نے بھی اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں جاری کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے سیریئن آبزویٹری گروپ کا کہنا تھا کہ امریکی اور اس کی اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں2440 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں