’امریکہ میں گانجے کا انقلاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واشنگٹن ڈی سی میں شوق کے لیے گانجا فروخت کرنا غیر قانونی عمل ہے مگر آپ اپنے استعمال کے لیے اس کے دو چار پودے اگا سکتے ہیں

چند برس پہلے ہی کی بات ہے جب امریکہ میں اقتصادی بحران اپنے عروج پر تھا اور دیگر تمام رپورٹرز کی طرح میں بھی دانشوروں کے دروازے كھٹكھٹا رہا تھا۔

کیا، کیوں، کیسے، کہاں،کب جیسے سوالات کے ساتھ۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا تھا کہ اس کساد بازاری پر قابو پانے کے لیے امریکہ کو انٹرنیٹ کے انقلاب جیسے ایک اور انقلاب کی ضرورت پڑے گی۔

پتہ نہیں کیوں لیکن مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ انقلاب آ گیا ہے۔ ہرے سبز ڈالروں کے ایک کے اوپر ایک چڑھے ہوئے بنڈل کی تصاویر، ٹی وی چینلز پر کبھی کوئی دستاویزی فلم تو اخباروں میں کسی نئے ریسرچ کی داستان، اي فونز اور اینڈرائيڈ دونوں ہی کے لیے اس چیز سے منسلک کم سے کم 15 ایپس کے ساتھ ساتھ اب اس کا ایک خاص دن بھی منایا جا رہا ہے۔۔۔۔یعنی یوم گانجا۔

گانجے کا کاروبار ایسا چل رہا ہے کہ مجھے کوئی شک نہیں ہےکہ امریکہ میں گانجے کا انقلاب آ چکا ہے۔

انٹرنیٹ کی طرح عام لوگوں کی زندگی کا گانجا بھی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں آپ کو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عام طور پر آپ نے دیکھا ہو گا، اخباروں میں ایک محترمہ ہوتی ہیں جن کے پاس دنیا کے تمام سوالات کا جواب ہوتا ہے۔ دہلی سےٹرین نکلتے ہی گندی اور بدبودار دیواروں پر بہت سی چیزوں کے شرطیہ علاج کی ضمانت کا اشتہار لگا ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ملازمت، ساس بہو کے رشتے، محبت میں دھوکہ فریب، بدتميز باس جیسے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس ہوتا ہے۔

تو ایسے ہی ایک کالم میں ایک صاحب نے اپنی پریشانی لکھی جو ان کے ہی الفاظ میں بیان کرتا ہوں: ’میرا بیٹا کچھ ہی مہینوں میں کالج شروع کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے وہاں پارٹیاں ہوں گی، شراب بھی ہوگی، گانجا بھی ہوگا۔ اگر مجھ سے پوچھتا ہے تو کیا میں یہ کہوں کہ اگر پینا ہی ہے تو شراب نہیں گانجے کا استعمال کرے؟

جواب کا نچوڑ تو یہی تھا کہ تمام ریسرچ یہی کہہ رہی ہے کہ گانجا شراب کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے۔ لیکن غورکرنےوالی بات یہ ہے کہ اب گانجا کو کمتر نہیں سمجھا جا رہا، اسے شراب کے برابر کا درجہ مل چکا ہے اور کچھ ہی دنوں میں شاید اس سے اوپر چلا جائے۔

ایم بی اے اور کمپیوٹر انسٹيٹيوٹز کی طرح گانجا کیریئر کےانسٹی ٹیوٹ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ گانجے کا بزنس کیسے کریں، اس کی برانڈنگ کیسے ہو، کسٹمرز آپ کے پاس بار بار واپس آئے اس کے لیے کیا کریں، سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کریں وغیرہ وغیرہ۔

آپ کو یہ تو نہیں لگ رہا نہ کہ میں نے بھی کش لگا لیا ہے اور ہانکے جا رہا ہوں۔ اس بات کا یقین نہ ہو تو بس کلک کر کے دیکھ لیں۔ cannabiscareerinstitute.com نیو یارک میں تو باقاعدہ گانجے پر ایک عالمی کانگریس ہو رہی ہےجس کا نعرہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔Cannabis Means Business

یعنی گانجے کا مطلب کاروبار۔ جب انٹرنیٹ کا آغاز ہوا تھا تو آپ کو یاد ہوگا اس طرح کی کانفرنسز اکثر ہی ہوتی تھیں اور آج تک جاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گانجے کا کاروبار ایسا چل رہا ہے کہ مجھے کوئی شک نہیں ہےکہ امریکہ میں گانجے کا انقلاب آ چکا ہے

ایک ٹی وی چینل پر ایک ڈاکٹر صاحب، جو جانے مانے صحافی بھی ہیں، نے گانجے کے حق میں پوری مہم چھیڑ رکھی ہے۔گانجے کے لیے جن موبائل ایپس کی بات میں کر رہا تھا، اس میں گھرکی بالكني میں گانجا اگانے، اس سے متعلق قانون، چلم کے الگ الگ سٹائلز اور ایسی دیگر معلومات دستیاب ہیں۔

گانجے سے منسلک پکوانوں کی فہرست بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا پتہ کچھ دنوں میں یہ ڈیوٹی فری دکانوں میں بھی گانجے سے منسلک پکوانوں کی فہرست بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا پتہ کچھ دنوں میں یہ ڈیوٹی فری دکانوں میں بھی ملنے لگے۔

واشنگٹن ڈی سی میں شوق کے لیے گانجا فروخت کرنا غیر قانونی عمل ہے مگر آپ اپنے استعمال کے لیے اس کے دو چار پودے اگا سکتے ہیں۔ لیکن گانجا کا پرستار اگر اتنا انتظار کرےگا تو پھر بھلا عاشق کیسا ؟ اب تو بس اپنے فون پر ایک ٹیکسٹ کیجیئے اور گانجے کا پیکٹ آپ کے گھر پر مہیا ہو جائےگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب تو بس اپنے فون پر ایک ٹیکسٹ کیجیئے اور گانجے کا پیکٹ آپ کے گھر پر مہیا ہو جائےگا

تعجب تو مجھے اس بات پر ہے کہ اس انقلاب کو یہاں آنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔ کہتے ہیں کہ جارج واشنگٹن جنھوں نے اس ملک کی بنیاد رکھی وہ بھی اس کا شوق رکھتے تھے اور صدر اوباما تو اپنے ’چوم گینگ‘ (ہوائی، جہاں وہ پلے بڑھے، وہاں کی مقام یزبان میں گانجا پينے والو کا گینگ) کا ذکر اپنی کتاب میں بھی کر چکے ہیں۔

جان ایف کینیڈی اور جارج ڈبليو بش بھی اس کے شوقین تھے۔ ہاں بل کلنٹن نے بس اتنا کہا تھا کہ ’میں نے کش ضرور لیا تھا، لیکن ’انہیل‘ نہیں کیا یعنی دھواں اندر نہیں لے گیا۔‘

اب کلنٹن صاحب کی بات نرالي ہوتی ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔ الفاظ کےساتھ کس طرح کھیلنا ہے وہ تو ہم مونیکا لیونسكي کیس کےدوران دیکھ ہی چکے ہیں۔

جب امریکہ میں انٹرنیٹ کا انقلاب آیا تو بھارت کو کافی فائدہ ہوا تھا۔ گلی گلی میں کمپیوٹر كلاسیز کھل گئے، مودي جي کے راج میں شاید گاؤں میں بھی کھل جائیں۔

ویسے ان دنوں’میک ان انڈیا‘ کا بول بالا ہے۔ یعنی بھارت میں بنائیں بیرونی ملک میں فروخت کریں۔ اس نئے گانجا انقلاب سے فائدہ کس طرح اٹھانا ہے، یہ میں آپ پر چھوڑ دیتا ہوں!

اسی بارے میں