’دولتِ اسلامیہ کو ہرانے کے لیے ایران عراق تعاون لازمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق میں لڑی جانے والی جنگ کا مقصد خلیجی ممالک کو محفوظ رکھنا ہے جن کو دولت اسلامیہ سے خطرہ ہے

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ایرانی مدد اور تعاون کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم کو شکست دینے کے لیے ایران اور عراق کے درمیان تعاون ’لازمی‘ ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے یہ بات ریاستی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی دولتِ اسلامیہ سے خطرہ ہے۔

ایران اور عراق کے بڑھتے ہوئے روابط پر امریکہ اور خلیجی ممالک کے تحفظات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق میں لڑی جانے والی جنگ کا مقصد خلیجی ممالک کو محفوظ رکھنا ہے جنھیں دولت اسلامیہ سے خطرہ ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ’جو جنگ اس وقت عراق میں لڑی جا رہی ہے وہ درحقیقت خلیجی ممالک کو دولت اسلامیہ کے خطرے سے بچانے کے لیے ہے‘۔

اس سے قبل حیدر العبادی کہہ چکے ہیں کہ ایران اور اردن عراقی حکومت کی بڑی مدد کر رہے ہیں لیکن خلیجی ممالک کو اس حوالے سے ’خطرہ‘ محسوس ہوتا ہے اور خلیجی ممالک اس صورتحال کو حقیقت پسندانہ انداز سے نہیں دیکھ رہے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے کہا تھا کہ داعش کے خلاف لڑائی میں ’عزم کی کمی‘ سے واضح ہے کہ عراق میں موجودہ صورتحال سے جڑی سازش میں امریکہ ملوث ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو دولت اسلامیہ نے رمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد عراقی وزیراعظم نے شہر کو واپس لینے کے لیے شیعہ ملیشیا کو مدد کے لیے بلایا تھا۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں عراق افواج کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے عزم کی کمی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عراقی فوجی تعداد میں دولتِ اسلامیہ سے کہیں زیادہ تھے لیکن انھوں نے اس کے باوجود پسپائی اختیار کی۔

امریکہ نے عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور ان کو مسلح کیا لیکن کئی موقعوں پر عراقی فوج نے امریکہ کا دیا ہوا اسلحہ دولت اسلامیہ کے حملے پر چھوڑ کر فرار اختیار کی۔

اسی بارے میں