’سعودی اتحاد یمن میں کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک معاہدے کے تحت دنیا کے 116 ممالک نے ان بموں کے استعمال پر پابندی لگائی رکھی ہے

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے یمن میں جاری جنگ میں سعودی عرب اور اس کی اتحادی فوجوں پر کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر یمن کے دارالحکومت صنعا اور اس کے گردو نواح میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر سعودی عرب کی اتحادی افواج نے سنیچر کی شب سے اتوار کی صبح تک بمباری کی ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل شیخ مذاکرات کے لیے صنعا پہنچ رہے ہیں۔

اتوار کو ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کے علاقوں میں ممنوعہ کلسٹر بموں کی وجہ سے بچے اور شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے صدا کا دورہ کیا جہاں 15 اور 16 مئی کو بمباری ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کے تحریری بیان میں ادارے سے منسلک سینیئر محقق اولے سولوانگ نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد اور لڑنے والے دیگر گروہوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ممنوعہ کلسٹر بم شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ یہ ہتھیار عام شہریوں اور فوجی اہداف میں تمیز کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کلسٹر بموں سے نکلنے والے چھوٹے بموں سے جنگ ختم ہونے کے بعد بھی عام شہریوں خصوصاً بچوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کے مضبوط گڑھ صدا صوبے کا دورہ کرنے والے تنظیم کے اہلکاروں کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے واضع ہوتا ہے کہ ممنوعہ کلسٹر بموں سے بچوں سمیت عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

واضع رہے کہ کلسٹر بم کے ذریعے ایک وسیع علاقے پر چھوٹے چھوٹے بم گرائے جاتے ہیں جو اگر فوری طور پر نہ بھی پھٹیں تو زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے آبادی کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔

ایک معاہدے کے تحت دنیا کے 116 ممالک نے ان بموں کے استعمال پر پابندی لگائی رکھی ہے لیکن سعودی عرب ان ممالک میں شامل نہیں ہے۔

امریکہ اور سعودی اتحاد میں شامل دیگر ممالک نے بھی پابندی کے اس معاہدے پر دسخط نہیں کیے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں مارچ کے مہینے سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت دو ہزار افراد ہلاک اور آٹھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں