’حجاب کی وجہ سے ملازمت سے انکار غلط تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سمنتھا ایلاوف (دائیں) کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ملازمت میں ہر عقیدے کے فرد کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے

امریکہ کی سپریم کورٹ نے اس مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ دیا ہے جس کو سر پر سکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

’ایبرکرومبے اینڈ فِچ‘ نامی کمپنی نے سمنتھا ایلاوف کو یہ کہہ کر ملامت نہیں دی تھی کہ ان کا لباس کمپنی کے سیلز کے عملے کے ’لوگوں کو نظر آنے والی پالیسی‘ کے خلاف ہے۔

ایلاوف نے اس کمپنی میں انٹرویو کے وقت حجاب پہن رکھا تھا لیکن انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔

لیکن جسٹس اینٹونِن نے کہا کہ کپمنی کو کم از کم یہ شبہ ضرور تھا کہ سمنتھا ایلاوف مذہبی بنیادوں پر سر پر سکارف پہنتی ہیں اور انھیں اس سلسلے میں درخواست کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔

امریکی قانون کے مطابق آجروں کو جس حد تک مناسب طور پر ممکن ہو کسی ملازم کے مذہی عقائد کا خیال رکھنا اس وقت تک ضروری ہے جب تک یہ کاروبار کے لیے غیر ضروری طور پر مشکل نہ بن جائے۔

سمنتھا ایلاوف نے عدالت کے فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا ’میں ایسی لڑکی تھی جسے فیشن بہت پسند تھا اور میں اس کمپنی میں کام کرنے کی بہت شوقین تھی۔‘

سنہ 2008 میں امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر تلسا میں انٹرویو کے دوران جب سمنتھا ایلاوف کے ساتھ امتیاز برتا گیا تو ان کی عمر 17 برس تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس مقدمے میں سمنتھا ایلاوف کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یہودی، سکھ، مسیحی، ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں نے بھی عدالت میں کاغذات جمع کرائے تھے

انھوں نے کہا ’اگر میں اپنے مذہب کی رسوم کی پابند ہوں تو مجھے ملازمت نہ ملنے کی یہ وجہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوئی۔‘

ایک کے مقابلے میں آٹھ ججوں کے اکثریتی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ایبرکرومبے نے سنہ 1964 کے شہری قوانین کی خلاف ورزی کی جو عقائد اور اس کے تحت رسوم کی ادائیگی کی بنا پر امتیاز کرنے پر پابندی لگاتے ہیں ۔

اس مقدمے میں سمنتھا ایلاوف کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یہودی، سکھ، مسیحی، ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں نے بھی عدالت میں کاغذات جمع کرائے تھے۔

سمنتھا ایلاوف کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ملازمت میں ہر عقیدے کے فرد کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔

سنہ 2013 میں ’ایبرکرومبے اینڈ فِچ کو‘ نے ان دو امریکی مسلمان خواتین کے ساتھ عدالت سے باہر معاملات طے کیے تھے جنھیں کمپنی کی انتظامیہ نے حجاب کے استعمال پر نشانہ بنایا تھا۔

دونوں خواتین کو 71، 71 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے گئے تھے اور تب سے کمپنی نے سر پر پہنے والے سکارف پر اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔