ستاروں کے چورگرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 1990 میں ارجنٹینا کے ایک موٹر وے پولیس افسر نے شہابِ ثاقب کو چوری کر کے ایک امریکی خریدار کو بیچنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا

ارجنٹائن کی شمالی ریاست چاکو میں پولیس نے چار افراد کو ایک ہزار ٹن وزنی شہابِ ثاقب چرانے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق ایک ٹرک کی تلاشی کے دوران انھیں دو سو سے زائد شہابِ ثاقب کے ٹکرے اس کی سیٹ کے نیچے سے ملے۔

گرفتار ہونے والوں میں ارجنٹائن کے تین جب کہ پیراگوئے کا ایک باشندہ شامل تھا۔

ارجنٹائن کی ریاست چاکو دنیا بھر میں شہابِ ثاقب کی وجہ سے مشہور ہے جن کو ملکی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ اس ریاست میں ایک علاقہ ’کیمپو ڈیل سیئلو‘ کے نام سے واقع ہے جس کے معنی ’جنت کے میدان‘ کے ہیں۔

یہ علاقہ 1300 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور یہاں چار ہزار سال پرانے شہابِ ثاقبوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔

ایل چاکو نامی سب سے بڑا شہابِ ثاقب، جو کہ ایک میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے 1967 میں تلاش کیا گیا تھا، 37 ٹن ورنی ہے۔

یہ شہابِ ثاقب دنیا کا دوسرا بڑا شہابِ ثاقب ہے اور اس کے ملنے کے بعد اس کم یاب پتھر یا ٹوٹے ہوئے تارے کو جمع کرنے والوں کے درمیان لالچ پیدا ہوگئی تھی۔

اس سے قبل 1990 میں ارجنٹائن کے ایک موٹر وے پولیس افسر نے شہابِ ثاقب کو چوری کر کے ایک امریکی خریدار کو بیچنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا۔

اسی بارے میں