دولتِ اسلامیہ کا 14 سالہ لڑکے پر تشدد

Image caption ’مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا اور اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو اکیلا چھوڑ دوں گا‘

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک موبائل فون ویڈیو میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو ایک 14 سالہ شامی لڑکے پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کو دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق جہادی نے فلمبند کیا ہے، اس میں اس لڑکے کے ہاتھ باندھ کر اس پر تشدد ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے دولتِ اسلامیہ اور دیگر مسلحہ گروہوں پر شام اور عراق میں بچوں پر تشدد اور انھیں قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کر کے اور انھیں عسکری تربیت دے کرمیدانِ جنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔

ایک اور نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کے اس نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروہ النصرہ کی طرف سے لڑتے ہوئے کیسے صرف پندرہ سال کی عمر میں لڑائی اور قتل کیے۔ جب وہ النصرہ سے دولتِ اسلامیہ میں گئے تو وہاں انھوں نے تیرہ سالہ لڑکوں کو تربیت حاصل کرتے دیکھا۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی موبائل فون ویڈیو میں 14 سالہ احمد کو زمین سے تقریباً دو فٹ اونچائی پر لٹکتا دکھایا گیا ہے۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی ہے اور دو نقاب پوش آدمی، سر سے پاؤں تک کالے لباس میں اے کے 47 ملبوس ہیں، اس کے آگے پہرہ دے رہے ہیں۔

بعد ازاں وہ احمد کو چھت سے باندھ کرمار پیٹ کرنے لگتے ہیں۔ 14 سالہ احمد، جو کہ اب ترکی میں ہیں، کہتے ہیں: ’میں نے اپنے والدین کے بارے میں سوچا، اپنی ماں کے بار میں۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا اور اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو اکیلا چھوڑ دوں گا۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا‘۔

’انھوں نے مجھ پر کوڑے برسانہ شروع کردیے۔ میں نے انھیں سب کچھ بتا دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک نوجوان نے بتایا کے اس نے النصرہ کی طرف سے لڑتے ہوئے کیسے صرف پندرہ سال کی عمر میں لڑآئی اور قتل کیے

عراق کےشمالی شہر رقہ میں احمد اپنے گزر بسر کرنے کے لیے ڈبل روٹی فروخت کرتے تھے۔ ان کے جاننے والے دو افراد نے انھیں ایک بیگ تھمایا اور کہا کہ اسے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانے کے پاس رکھ آو۔ لیکن در حقیقت احمد کو دھوکے سے وہاں بم نصب کرنے کےلیے استعمال کیا جارہا تھا۔

شدت پسندوں کو احمد کی عمر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی. انھوں نے اس پر دو دن تک تشدد جاری رکھا۔

جب انھوں نے مجھے کرنٹ مارا تو میں نے اپنی والدہ کو پکارنا شروع کردیا۔ لیکن جیسے ہی میں نے ان کا نام لیا تو تشدد کرنے والے نے کرنٹ کا وولٹیج اور بڑھا دیا اور مجھ سے کہا ’اپنی ماں کو اس میں مت لاؤ‘۔

احمد کہتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کہ شدت پسند کہتے ہیں کہ وہ مذہبی ہیں لیکن اصل میں وہ کافر ہیں۔ ’وہ سگریٹ پیتے تھے۔ مسلمانوں کا نظام رائج کرنے پر زور ڈالتے تھے۔ لیکن وہ مسلمان نہیں۔ وہ لوگوں کو ہلاک اور قتل کرتے ہیں۔‘

جیل میں رہتے ہوئے احمد کو موت کی سزا سنا دی گئی۔ لیکن جلاد نے ان پر رحم کھا کر انھیں فرار ہونے میں مدد دی۔

’مجھے نیند بہت کم آتی ہے۔ میں جب پہلی بار ترکی آیا تو مجھے ہر وقت ڈراؤنے خواب آتے تھے۔ میرا کچھ علاج کیا گیا۔ لیکن مجھے پھر بھی نیند نہیں آتی تھی۔ مجھے ہر وقت خواب آتے تھے۔ آنکھیں بند کرتے ہی میں وہ سب دوبارہ دکھتا تھا۔ اور پھر ساری رات جاگتا رہتا‘۔

احمد کو فلمبند کرنے والے آدمی نے ہم سے ملاقات کی۔ انھوں نے دولتِ اسلامیہ چھوڑ دی ہے اور انھیں اپنے کیے پر ندامت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس فلم کو پراپیگینڈے کے تحت بنایا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں اور جن دو لوگوں پر تشدد کیا جارہا ہے ان کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

ویڈیو فلمبند کرنے والے کا کہنا ہے ’ مجھے ہر وقت اس پر ندامت ہوتی ہے۔ میں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے پوری طرح سے قائل نہیں تھا لیکن میں مجبور تھا۔ میں لوگوں پر بہت زیادہ تشدد نہیں کرتا تھا لیکن مجھے امید ہے کہ جن لوگوں کو میں نے تکلیف دی ہے وہ مجھے معاف کردیں گے۔‘

اسی بارے میں