مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یمن، لیبیا، عراق اور شام تشدد کی لپیٹ میں ہیں اور وہاں مذہبی انتہا پسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے

برطانوی اور فرانسیسی نوآباد کاروں کے مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں کے تعین کے تقریباً ایک صدی بعد اس خطے میں ہونے والے واقعات اس کا نقشہ ایک مرتبہ پھر بدل رہے ہیں۔

وہ ممالک جو لندن اور پیرس کے شاہی ڈیزائن کے مطابق بنائے گئے تھے اب جہادیوں، قوم پرستوں، باغیوں اور جنگجو سرداروں کے علاقوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

شام اور عراق کی سرحد اس وقت دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہے، شام کے کردوں کے پاس بھی اس طرح کی خود مختاری ہے جو عراق کے کردوں کو کئی برسوں پہلے ملی تھی، اور لیبیا اور یمن میں نسلی، قبائلی اور مذہبی رہنماؤں کا اپنے اپنے علاقوں پر کنٹرول ہے۔

جیسے جیسے قومی ریاستیں ٹکڑے ٹکڑے ہو رہی ہیں ان میں موجود بڑے طاقتور دارالحکومت غیر متعلقہ ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا چاہے مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک میں اپنے سفارتخانے رکھے لیکن ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے موثر وزارتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔

بغداد، دمشق، تبروک اور صنعا کی حکومتوں کا اپنے ممالک کے بیشتر حصوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

لندن سکول آف اِکنامکس کے پروفیسر فواز گرجیز نے بی بی سی کے پرورگرام نیوز آور ایکسٹرا کو بتایا کہ اس خطے کی ریاستوں کے پاس طاقت کے استعمال کی بھی اجارہ داری نہیں ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ کچھ مرکزی حکومتیں اب جنگجوؤں یا غیر ریاستی قوتوں پر انحصار کر رہی ہیں کہ وہ ان کا دفاع کریں۔

یہاں تک کہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے قیمتی وسائل کا ذریعہ یعنی کہ اس کا تیل بھی حکومت کے کنٹرول سے آہستہ آہستہ نکل رہا ہے۔

عراقی کرد تیل کی برآمد کے قانونی ڈھانچے پر تقریباً دس سال سے کام کر رہے ہیں جبکہ لیبیا میں باغی فورسز اور دولتِ اسلامیہ دونوں ہی تیل کی صنعت سے آمدنی اکٹھی کر رہے ہیں۔

اگرچہ غیر ریاستی اداکاروں کے لیے خام تیل بیچنا مشکل کام ہے، لیکن ان کے لیے صاف کیا ہوا پیٹرول اور اس سے متعلق اشیا سمگل کرنا آسان ہے۔

تیل کی صنعت کے ایک کنسلٹنٹ جان ہملٹن کہتے ہیں کہ ’وہاں ایک ایسا نیٹ ورک بھی موجود ہے جو مذہبی اور نظریاتی سرحدوں سے پار ہے جہاں آپ کو لوگ معدنی تیل، ڈیزل اور گیسولین بیچتے اور خریدتے ملتے ہیں۔ اور یہ سب بڑا فائدے مند ہے۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلی کی اس لہر کی کئی وجوہات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق کی حکومت کو دولتِ اسلامیہ کے جنگوؤں سے لڑنے میں بہت دشواری پیش آ رہی ہے اور دولتِ اسلامیہ عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے

اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق تجزیہ کار اسے عرب قوم پرستی کی ناکامی، جمہوری ترقی کی کمی، صیہونیت، مغربی تحفظ تجارت، کرپشن، کم تعلیمی معیار اور ریڈیکل اسلام کا عالمی احیاء بتاتے ہیں۔

شاید مشرقِ وسطیٰ کے معاشروں کو جو طاقت سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے وہ فرقہ واریت ہے۔ پورے خطے میں شیعہ اور سنی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں اور پرتشدد لڑائی لڑ رہے ہیں۔

خطے کی دو بڑی طاقتیں سعودی عرب اور ایران اپنے گماشتوں کے ذریعے اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

ماضی میں عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو یکجا رکھنے میں کامیاب رہتی تھیں لیکن اب بالکل نظر نہیں آتا کہ واشنگٹن یا ماسکو کے پاس طاقت یا منشا ہے کہ وہ شام، عراق، لیبیا یا یمن کو متحد کر سکے۔

اب ذرا اس سے آگے دیکھیں تو اکثر مغربی سفارتکار یہ سوال نہیں پوچھ رہے کہ پرانا طرزِ نظام چل سکے گا بلکہ وہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا مصر، اردن، بحرین اور سعودی عرب تبدیلی کی اس لہر کا سامنا کرتے ہوئے قائم رہ سکیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر ملک پہلی جنگِ عظیم کے بعد وجود میں آئے تھے۔ لیگ آف نیشنز کی طرف سے کیے گئے سکائکس۔پائکوٹ معاہدے اور دیگر بندوبست کی وجہ بنائی گئی سرحدیں آج بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔

لیکن سب سے بڑی تبدیلی 1948 میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ آئی۔

اسرائیل کی سرحدیں ہمیشہ سے جذباتی بحث کا حصہ رہی ہیں۔ حال ہی میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی نئی نائب وزیرِ خارجہ زپی ہوتولی نے اسرائیلی سفارتکاروں کو بتایا ہے کہ وہ دنیا کو کہہ دیں کہ غربِ اردن یہودیوں کا ہے۔

کچھ فلسطینی بھی تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں، چاہے وہ جیسے بھی آئے۔

سٹی یونیورسٹی لندن کے پروفیسر روزمیری ہولیس کہتی ہے کہ ان کی نظر میں شام اور عراق کے بحران اور دولتِ اسلامیہ ممکنہ تبدیلی لا سکتی ہے جس سے شاید تمام سرحدوں پر سوالیہ نشان پڑے اور وہ فلسطینیوں کے لیے مفید ہو۔

’اس کے علاوہ ان کا مستقبل بہت تکلیف دہ ہے۔‘

مشرقِ وسطیٰ کئی برسوں سے بحران کا شکار ہے۔ اس خطے میں زیادہ تر لوگ قوم پرستی کی بجائے مذہب اور نظریے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ان کے لیے چاہے وہ قدامت پسند ہوں، لبرل، مذہبی یا سیکولر، اولین ترجیح یہ نہیں ہے کہ نقشے پر لکیروں کو بدلہ جائے بلکہ اپنے اس نظریے کو آگے بڑھایا جائے کہ کس طرح معاشرے کو منظم ہونا چاہیے۔.

اسی بارے میں