’دولت اسلامیہ کو اسلحے کے زور پر شکست نہیں دی جا سکتی‘

Image caption عراق اور افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل پیٹریاس کو سی آئی اے کا سربراہ بنایا گیا

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو صرف دوہری عسکری اور سیاسی حکمت عملی کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔

انھوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’انتہائی طاقت ور انتہا پسندوں کو صرف اسلحے کے زور پر شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔‘

عراق کی جنگ کے دوران مسٹر پیٹریاس نے جو حکمت عملی تیار کی تھی اس کی وجہ سے امریکی فوج میں اضافہ ہوا تھا اور انھوں نے القاعدہ کے خلاف سنی قبائیلیوں کی حمایت حاصل کی تھی۔

امریکہ نواز عراقی فوج اب دولت اسلامیہ کے قبضے سے اپنے خطے کو واپس حاصل کرنے کے لیے برسرِپیکار ہے۔

جنرل پیٹریاس نے اس تنظیم کو ’سخت خوفناک دشمن‘ سے تعبیر کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعتاً ایک روایتی فوج ہے جس میں سرکشی کے عناصر ہیں اور یقینی طور پر ان میں دہشت گرد عناصر بھی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنرل پیٹریاس نے دولت اسلامیہ کو ’سخت خوفناک دشمن‘ سے تعبیر کیا ہے

لیکن جب ان سے دولت اسلامیہ اور القاعدہ میں موازنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’القاعدہ کی عراق میں جڑیں وسیع تھیں اور ان کی تعداد بھی دولت اسلامیہ کے مقابلے بہت زیادہ تھی۔‘

خیال رہے کہ انھوں نے عراق میں القاعدہ کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنرل پیٹریاس نے حال ہی میں انبار صوبے کے دارالحکومت رمادی پر دولت اسلامیہ کے قبضے کوان معنوں میں ’عسکری اہمیت کا نقصان‘ بتایا جس میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ’وہ دفاعی حالت میں ہیں یا شکست سے دو چار ہیں اور یہ دعوی کچھ حد تک کھوکھلا نظر آیا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں رمادی کو چند ہفتوں یا اس سے قبل دوبارہ حاصل کر لیا جائے گا۔

’لیکن یہ ایک بڑی حزیمت تھی۔ ایسے میں کسی کو حکمت عملی اور اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات پر نظر رکھنی چاہیے اور میرے خیال میں یہ سب اب درست سمت میں جا رہا ہے۔‘

عراق اور افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل پیٹریاس کو سی آئی اے کا سربراہ بنایا گیا لیکن شادی کے علاوہ ایک دوسری خاتون سے تعلق رکھنے کی بات سامنے آنے پر انھیں اس عہدے سے دست بردار ہونا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیٹریاس ابھی بھی عراق جاتے رہتے ہیں اور ان کے وہاں کے سرکردہ لوگوں کے ساتھ روابط ہیں

ان پر یہ الزام بھی لگا کہ جب وہ سی آئی اے کے سربراہ تھے تو انھوں نے رازداری کی معلومات اپنی محبوبہ کو بتائیں۔

پریشان کن نجی زندگی کے باوجود انھیں حالیہ دنوں امریکہ کے متازع فوجی آپریشنوں کا ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہی سبب ہے کہ عراق میں حالیہ حزیمت کے بعد وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور کیپیٹل ہل ان کے خیالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔

پیٹریاس کی حکمت علمی ہمیشہ سے یہی رہی کہ سیاسی اور عسکری حکمت عملی کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔

کیا واقعی عراقی فوج دولت اسلامیہ کے خلاف فتح یاب ہو سکتی ہے، اس میں انھیں کوئی شک نہیں ہے۔

انھوں نے زور دے کر کہا: ’امریکی فوجی میں اضافے کے دوران اور اس کے بعد بھی عراقی فوج لڑی ہے اور امریکی اتحادی فوجیوں کے مقابلے بڑی تعداد میں اپنے ملک کے لیے جان دی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ لڑ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولت اسلامیہ کے رمادی پر قبضے کے بعد ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

’ہم جانتے ہیں کہ وہ لڑیں گے۔ لیکن وہ اسی وقت لڑیں گے جب ان کے پاس بہتر قیادت اور حمایت کے ساتھ یہ احساس ہے کہ اگر برا وقت آیا تو کوئی ان کی پشت پر کھڑا ہے۔‘

مسٹر پیٹریاس نے شام میں خوف سے نمٹنے میں دقتوں کا اعتراف کیا لیکن انھوں اس بات پر زور دیا کہ وہاں ایک ہی راستہ آگے کی جانب جاتا ہے اور یہ ہے کہ معتدل حزب اختلاف کو تربیت اور اسلح دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار جب پروگرام شروع ہو جائے گا تو مزید جنگجو پیدا ہوں گے۔

تاہم وہ دولت اسلامیہ کے خلاف ایرانی کردار کے بارے میں بہت محتاط نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں انقلابی قوت ہے۔

انھوں نے کہا: ’یہ ایسا ملک ہے جس نے افراتفری کے سبب ترقی کی ہے۔ انھوں نے بدنظمی کا فائدہ اٹھایا ہے اور اسے فروغ دیا ہے تاکہ علاقائی بالادستی حاصل کر سکے۔‘

اس لیے ان کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے میں امریکہ اور علاقے میں ان کے اتحادیوں اور ایران کے مفادت اتفاقاً ملتے ہوں تاہم ایران کے ساتھ رشتے کو آگے بڑھانے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں