’کوئی بھی امریکی فوجی آپریشن کو نہیں روک سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزشتہ ماہ چین نے سپریٹلی جزیرے کے اوپر امریکی جاسوس طیارے کی اڑان کے بعد واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے ویتنام کے دورے کے دوران ایشیا میں امریکی کردار کے مستقبل کے بارے میں کہا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

ویتنام کے دورے کے دوران انھوں نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ امریکہ خطے میں امن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے سب کو آگے بڑھنے اور جیتنے کا موقع ملے گا۔‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے مابین شمالی چین کے سمندر جس کے خطے کے مختلف ممالک دعوے دار ہیں، کشیدگی چل رہی ہے۔

امریکہ نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپریٹلی جزیرے پر فوجی طیاروں کے لیے ہوائی اڈہ بنا رہا ہے لیکن چین نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

کارٹر کے مطابق امریکہ اس صورتحال کو فوجی رخ نہیں دینا چاہتا۔ تاہم انھوں نے زور دیا کہ امریکہ کہ آپریشن کو ’کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چین نے سپریٹلی جزیرے کے اوپر امریکی جاسوس طیارے کی اڑان کے بعد واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’امریکی فوجی آپریشن کو کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی۔ ہم پرواز کریں گے۔ اور بحری موجودگی بھی رکھیں گے۔ جیسا کہ ہم نے ہمیشہ سے بحرالکاہل میں کیا ہے۔ لیکن ہم صورتحال کو مزید پیچیدہ نہیں کرنا چاہتے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سات عشروں سے اس خطے میں موجود ہے۔ ’ ہم ایک اہم فوجی طاقت ہیں، اور رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق چین کا یہ عمل بینالاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

امریکہ کے مطابق چین نے سپریٹلی جزائر میں دو ہزار ایکٹر جگہ کو استعمال کرتے ہوئے وہاں آرٹلری نصب کی تھی جو کہ اب ہٹا دی ہے۔

گزشتہ ہفتے چین نے کہا تھا کہ وہ اپنی فوجی موجودگی کو اپنی سمندری سرحدوں سے آگے بڑھانہ چاہتا ہے۔

دفاعی منصوبہ بندی کی دستاویزات میں چین بحریہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کھلے سمندروں کی حفاظت پر توجہ دیں نہ کہ ساحلوں کے دفاع پر۔

چین نے حالیہ عرصے میں اپنی بحری طاقت بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ انھوں نے ایک نیاایئرکرافٹ کیریئر یا طیارہ بردار بحری جہاز لانچ کیا ہے اور آبدوزوں اور جنگی بحری جہازوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

اتوار کو امریکی وزیرِ دفاع نے چین کے مختلف زمینی علاقوں پر دعوٰں پر تنقید کی جسے چین نے رد کر دیا۔ امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق چین کا یہ عمل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

چین کی فوج کے ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف کے مطابق چین کے حقوق اور اس کے مفادات غیر متنازع ہیں اور وہ ’انتہائی تحمل‘ کا مظاہرہ کررہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ چین کی جزیرے پر تعمیرات سے خطے میں اور مقامی لوگوں کے حالاتِ زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں