اوپیک تیل کی رسد کے بارے میں کیا کرے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption اوپیک میں بارہ رکن ممالک ہیں جو کہ دنیا میں تیل کے کل ذخائر کے 80 فیصد کے مالک ہیں

گذشتہ ایک سال میں تیل کی قیمت میں چالیس فیصد کمی کے پیشِ نظر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا اجلاس رواں ہفتے ویانا میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس میں اوپیک ممالک کے وزرا برائے تیل یہ فیصلہ کریں گے کہ کیا تیل کی عالمی پیداوار میں کمی کی جائے یا پھر پہلے سے ہی اضافی رسد والی اس مارکیٹ میں پیداوار کی یہی سطح رکھی جائے۔

چھ ماہ قبل ایسے ہی ایک اوپیک اجلاس میں اتفاقِ رائے پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک کو تقریباً چھ ڈالر فی بیرل کا نقصان ہو رہا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی منڈی میں اب اوپیک اس قدر بااثر نہیں رہی مگر اب بھی اوپیک کے سربراہی اجلاسوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اوپیک میں 12 رکن ممالک ہیں جو دنیا میں تیل کے کل ذخائر کے 80 فیصد کے مالک ہیں اور عالمی پیداوار کا 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

تاہم اوپیک میں بھی دو مختلف رائے سامنے آ رہی ہے۔

سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر کا خیال ہے کہ پیداوار موجودہ سطح پر جاری رکھی جانی چاہیے تاکہ ان ممالک کا بازار میں حصہ برقرار رہ سکے۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک کو اسی کم سطح کی قیمتوں کا سامنا رہے گا۔

ان چار ممالک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنی قدرے کم آبادیوں اور ماضی میں تیل کی رسد سے جمع کی گئی دولت کے ذریعے تیل کی کم قیمت کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں تو اس کی ایک وجہ داخلی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ بھی ہے۔

رائل انسٹیٹیوٹ آف فارن افیئرز میں تونائی کے امور کے سینیئر تجزیہ کار پال سٹیونز کا کہنا ہے ’ایک طرح تو یہ اوپیک کا فیصلہ نہیں، سعودی عرب کا فیصلہ ہے۔ گذشتہ سال بھی انھوں نے پیداوار کم نہ کرنے کا فیصلہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ سعودی عرب ایسا نہیں چاہتا تھا۔ اگر اب کمی کا فیصلہ ہوتا ہے تو حقیقی طور پر یہ سعودی فیصلہ ہوگا۔‘

دوسری جانب وینزویلا، عراق، ایران، الجزائر، لیبیا، نائیجیریا، انگولا اور ایکواڈور پیداوار میں کمی کر کے قیمتوں میں اضافہ کرنے کے حامی ہیں۔

سو ڈالر فی بیرل سے کم قیمت کی صورت میں ان ممالک کو مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور گذشتہ نو ماہ سے یہ ممالک اسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر برائے تیل اور معدنی وسائل ابراہیم نعیمی اس اجلاس میں ایک اہم شخص ہوں گے۔ ادھر ایران کا اس اجلاس میں کیا موقف ہوگا، یہ کہنا ابھی قدرے مشکل ہے۔

تہران سے ملنے والے اشاروں کے مطابق اگر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاملات پر معاہدہ طے پا گیا تو وہ پیداوار کم نہیں کریں گے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا؟

اوپیک اس وقت روزانہ مانگ سے 20 لاکھ بیرل خام تیل زیادہ پیدا کر رہا ہے۔

ادھر امریکہ کا بھی فریکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیزی کے ساتھ تونائی کے معاملے میں عالمی درآمدات پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ اس وقت فریکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ملنے والا شیل آئل پیدا کر رہا ہے مگر اس کی قیمت زیادہ مہنگی ہے۔ اس کی پیداوار منافع مند ہونے کے لیے تیل کی قیمت کم از کم 60 سے 70 ڈالر فی بیرل ہونا چاہیے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے سعودی حکمتِ عملی یہ ہے کہ قیمت اس قدر کم رکھی جائے کہ امریکی شیل آئل بنانے والے مارکیٹ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیل آئل بنانے والے اب شاید عالمی منڈی میں سب سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پال سٹیونز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تیل کی قیمت واپش اوپر جائے گی ایسے بہت سے شیل آئل کے کنوں سامنے آئیں گے۔

’وہ لوگ چند دنوں یا ہفتوں میں تیل کی پیداوار بڑھا سکتے ہیں اس لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔‘

اسی بارے میں