گھانا میں آتشزدگی سے 175 افراد ہلاک ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے

افریقی ملک گھانا میں حکام کے مطابق دارالحکومت اکرا میں ایک پٹرول سٹیشن پر آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

صدر جان درامنی ماہاما نے آتشزدگی کے واقعے کو تباکن قرار دیا ہے اور ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اکرا میں گذشتہ دو دن سے شدید بارشوں کے نتیجے میں کئی لوگ بے گھر ہو گئے اور ان میں سے متعدد پٹرول سٹیشن پر پناہ لیے ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سیمی ڈارکو کے مطابق بظاہر آگ اس وقت لگی جب لوگ پٹرول سٹیشن پر پناہ لیے ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ جائے وقوعہ پر ابھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

بس کنڈیکٹر یاافوروے آتشزدگی کے وقت پٹرول سٹیشن پر کھڑی ایک بس میں سو رہے تھے کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

انھوں نے سیلابی پانی میں چھلانگ لگا دی اور جب سانس لینے کے لیے منہ پانی سے باہر نکلا تو آگ کی وجہ سے ان کا منہ جھلس گیا۔

’میں سیلابی پانی کے ساتھ بہتے ہوئے سڑک کے دوسرے کنارے تک پہنچ گیا، میں نے دیکھا کہ متعدد افراد چیخ و پکار کر رہے تھے۔‘

Image caption سیلابی پانی کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل بہہ کر قریبی مکان میں چلا گیا جہاں سے آتشزدگی شروع ہوئی

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق آگ بھجانے والے ادارے کے ترجمان بیلی اینگلیٹ نے بتایا کہ آگ سیلابی پانی کی وجہ سے لگی۔

’پانی کے ساتھ پٹرول سٹیشن سے ڈیزل اور پٹرول بہہ کر ایک قریبی مکان تک پہنچ گیا اور وہاں دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی۔‘

گھانا کے صدر جان ماہما نے متاثرہ جگہ کا دورہ کیا اور لوگوں کو پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے حکام کو سیلاب اور آگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کی ہدایت کی۔

اکرا میں دو دن سے جاری موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے شہر میں گھٹنوں تک پانی جمع ہو گیا ہے۔

متعدد گاڑیاں اور سڑکیں سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں جبکہ سینکڑوں افراد اپنے دفاتر میں محصور ہیں اور کئی افراد نے رات گاڑیوں میں سو کر گزاری۔

بارشوں کی وجہ سے شہر میں توانائی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں