حسنی مبارک کو مقدمے کا دوبارہ سامنا کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 87 سالہ حسنی مبارک قاہرہ کے ایک فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

مصر کی ایک اپیل کورٹ نے سابق صدر حسنی مبارک کو سنہ 2011 میں مظاہرین کو ہلاک کرنے کے مقدمے کا دوبارہ سامنا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سابق صدر حسنی مبارک پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی جس کے دوران 800 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ 87 سالہ سابق صدر کو جون سنہ 2012 میں ان مظاہروں کے دوران مظاہرین کو ہلاک کرنے کی سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر جنوری سنہ 2013 میں اس سزا کے خلاف ایک اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی گئی تھی جس کے بعد مقدمہ دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔

مصر کے سابق صدر کو ایک عدالت نے بری کر دیا تھا، تاہم اس سے پہلے انھیں انقلاب کے دوران 800 افراد کی ہلاکت کے الزام میں جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

87 سالہ حسنی مبارک قاہرہ کے ایک فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اپیل عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کے خلاف پانچ نومبر کو مقدمد چلایا جائے گا۔

یہ تیسرا موقع ہو گا جب حسنی مبارک کے خلاف اس مقدمے کی سماعت ہو گی۔

جون سنہ 2012 میں حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کی سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اس سے اگلے برس تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کو دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔

سنہ 2011 میں مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو حسنی مبارک کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر مایوسی ہوئی تھی کہ سابق صدر کو قتل کا حکم صادر کرنے کا قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا۔

30 برس تک اقتدار میں رہنے والے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو سنہ 2011 میں ان کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں اقتدرا سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔

اسی بارے میں