فوج روسی حملے کے لیے تیار رہے: پوروشینکو

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ 50 ہزار فوج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے

مشرقی یوکرین میں تشدد میں اضافے کے بعد یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ فوج کو روس کی طرف سے ملک پر مکمل طور پر چڑھائی کی صورت میں دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

روس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یوکرین کی لڑائی میں اس کی فوج کا کوئی ہاتھ ہے، لیکن پیٹرو پوروشینکو کا کہنا ہے کہ نو ہزار روسی فوجی وہاں تعینات کیے گئے ہیں۔

بدھ کو دونیتسک کے مغربی علاقے میں جھڑپیں ہوئیں جن میں ٹینکوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

یوکرین کے صدر نے پارلیمان کو بتایا کہ ’اس بات کا بڑا خطرہ ہے کہ وسیع پیمانے پر لڑائی شروع ہو جائے۔‘

فروری میں منسک میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد حکومتی کنٹرول کے علاقوں میری ینکو اور کراشنوہوروکا میں ہونے والا یہ تشدد سب سے شدید بتایا جا رہا ہے۔

دونیتسک کے مضافات میں حکومتی فوج نے بھی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں گولہ باری کی ہے۔

یوکرین نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ باغیوں نے کہا ہے کہ عام شہریوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

علیحدگی پسندوں نے یوکرین کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کیئف پر الزام لگایا ہے کہ وہ علیحدگی پسند رہنماؤں سے براہ راست مذاکرات سے انکار سے منسک معاہدے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

کریملن ہمیشہ سرحد کے پار حاضر سروس فوجی بھیجنے کی تردید کرتا رہا ہے تاہم اس نے تسلیم کیا ہے کہ باغیوں میں رضاکار شامل ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے دونیتسک کے نواح میں ایک مکمل طور پر تباہ مارکیٹ

پارلیمان کے ساتھ اپنے سالانہ خطاب میں یوکرین کے صدر نے کہا کہ ’یوکرین کی فوج کو دشمن کے نئے حملے، اور روسی فیڈریشن کی تمام سرحد کے ساتھ مکمل طور پر چڑھائی کے بڑے خطرے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

اپریل 2014 سے لے کر اب تک مشرقی یوکرین میں 6,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر پوروشینکو نے کہا کہ مشرق میں یوکرین کے پاس ملک کے دفاع کے لیے 50 ہزار فوجی موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کریملن کا جنوب مشرقی یوکرین کی علیحدگی کا پودا لگانے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے‘ اور یہ صرف ’روسی سنگینوں‘ کی وجہ سے دونیتسک اور لوہانسک جیسے علاقوں میں پروان چڑھ سکا ہے۔

اسی بارے میں