کیا قطر میں 12 سو مزدور ہلاک ہوئے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غیرملکی مزدوروں کو کڑکتی دھوپ میں کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے

فٹ بال کے بین الاقوامی ادارے فیفا کے حالیہ سکینڈل کی وجہ سے ایک بار پھر لوگوں کی توجہ سنہ 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈکپ کے لیے بنائے جانے والے سٹیڈیمز کی تعمیر کے دوران ہلاک ہونے والے مزدوروں کی جانب ہو گئی ہے۔

اکثر کہا اور لکھا جاتا ہے کہ اب تک 12 سو مزدور ہلاک ہو چکے ہیں لیکن کیا یہ تعداد درست ہے؟

کچھ تارکینِ وطن کے حالاتِ زندگی اور رہائش کی سہولتیں انتہائی مخدوش ہیں۔ غیر ملکی مزدوروں کو سخت دھوپ میں کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے جس کے عوض ان کو انتہاہی کم معاوضہ ملتا ہے اور ملک چھوڑنے کے لیے بھی ان کو ویزا حاصل کرنا پڑتا ہے۔

قطر واضع طور پر اس طرح کی خبروں کے میڈیا میں شائع ہونے کے بارے میں کافی پریشان ہے۔ گذشتہ ماہ بی بی سی کے نامہ نگار کو وہاں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چارٹ شائع کیا گیا جسے بعد میں سوشل میڈیا پر کئی بار شیئر کیا جا چکا ہے۔

اس چارٹ میں دیکھایا گیا ہے کہ ایسے دیگر ممالک جن میں کھیلوں کے مقابلوں کے لیے گذشتہ چند سالوں کے دوران بڑے پیمانے پر کھیلوں کے میدان تعمیر کیے گئے ہیں جیسا کہ بیجنگ اولپمکس اور برازیل فٹ بال ورلڈ کپ، میں مزدوروں کی اموات کی تعداد قطر میں اب تک ہلاک ہونے والے 12 سو مزدورں سے بہت کم ہے۔

لیکن یہ اعداد وشمار کہاں سے آئے اور ان کو کیسے مرتب کیا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ sin credito
Image caption ورلڈ کپ کی میزبانی ملنے کے اعلان سے قبل ہی ملک میں تعمیراتی شعبے میں تیزی دیکھی جاسکتی تھی۔

ان اعدادوشمار کو سب سے پہلے مزدوروں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن ( آئی ٹی یو سی )نے ’قطر کے خلاف مقدمہ‘ نامی ایک رپورٹ میں شائع کیا تھا۔

آئی ٹی سی یو کی جانب سے بھارت اور نیپال جہاں کے مزدوروں کی تعداد قطر میں سب سے زیادہ ہے ، کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا اور ان کی جانب سے بتائے گئے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2010 سے لے کر سنہ 2013 کے دوران ان ممالک کے ہلاک ہونے والے مزدوروں کی تعداد 1239 تھی۔

لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ قطر میں کام کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں کی تعداد 14 لاکھ ہے ان میں سے 60 فیصد کا تعلق نیپال اور بھارت سے ہے لہٰذا کل ہلاک ہونے والوں کی تعداد یقیناً اس سے زیادہ ہوگی۔

اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے قطر کی حکومت کی جانب سے قانونی معاملات کا جائزہ لینے والی ایک کپمنی ڈی ایل اے پائیپر کو مامور کیاگیا تھا اس کے مطابق بھی ہلاک ہونے والے بھارتی اور نیپالی مزدوروں کی تعداد سابقہ اعدادوشمار کے قریب ہی تھی۔

اس کمپنی نے بنگلہ دیشی مزدوروں کی ہلاکتوں کے اعداد وشمار اکھٹے کیے جن کے مطابق سنہ 2010 سے لے کر سنہ 2013 کے درمیان چھ سو بنگالی مزدور بھی ہلاک ہوئے تھے لہٰذا مرنے والوں کی کل تعداد 18 سو تھی۔

لیکن یہ تعداد بھی حتمی نہیں ہے کیوں کہ قطر میں دیگر ممالک جیسے مصر اور فلپائن کے مزدور بھی کام کرتے ہیں۔

یہ تمام کے تمام مزدور ورلڈ کپ کے لیے تعمیر کی جانے والی سہولیات کی تعمیر میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کی اکثریت تعمیراتی شعبے سے منسلک ہے اور قطر میں جو عمارت بھی تعمیر ہوتی ہے غیرملکی مزدور اسے تعمیر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے لاکھوں شہری قطر میں ملازمت کرتے ہیں اس لیے ہر سال چند سو اموات کسی کے لیے اچھنبے کی بات نہیں ہونی چاہہے

آئی ٹی سی یو کا کہنا ہے کہ اگرچہ ورلڈ کپ کے لیے سٹیڈیمز کی تعمیر گذشتہ برس شروع ہوئی تھی لیکن حالیہ برسوں میں تعمیراتی شعبے میں ہونے والی تمام اموات کی گنتی جائز ہے کیوں کہ کھیلوں کی سہولیات کے علاوہ متعدد سڑکوں، ہوٹلوں اور کئی دیگر عمارات کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔

آئی ٹی سی کے ڈائریکٹر ٹم نون کا کہنا ہے کہ ’یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ قطر میں ہونے والی تمام تعمیرات فٹ بال ورلڈ کپ کی وجہ سے ہی ہو رہی ہیں۔‘

لیکن یہ بحث کرنا کافی مشکل ہے کہ اگر قطرمیں ورلڈ کپ نہ ہو رہا ہوتا تو ملک میں کسی قسم کا کوئی تعمیراتی کام نہ ہوتا۔

قطر کی معیشت سنہ 2005 اور 2009 کے درمیان تین گنا بڑی ہے اور ورلڈ کپ کی میزبانی ملنے کے اعلان سے قبل ہی ملک میں تعمیراتی شعبے میں تیزی دیکھی جاسکتی تھی۔

ورلڈ کپ کو تعمیراتی شعبے میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار نہیں قرار دینا ناانصافی ہوگا۔

یہاں پر ایک اور قابلِ غور بات ہے کہ آئی ٹی سی نے جو اعداد وشمار اکھٹے کیے ہیں اس میں قدرتی اموات بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے لاکھوں شہری قطر میں ملازمت کرتے ہیں اس لیے ہر سال چند سو اموات کسی کے لیے حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

بھارتی حکام کے مطابق قطر میں 5 لاکھ بھارتی شہریوں میں 250 اموات زیادہ نہیں ہیں کیونکہ بھارت میں ہر پانچ لاکھ کی آبادی میں اموات کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔

لیکن آئی ٹی سی کے ڈائریکٹر ٹم نون کا کہنا ہے کہ’ یہ موازانہ درست نہیں ہے کیونکہ جو افراد قطر ملازمت کے لیے آتے ہیں ان کو میڈیکل پاس کرنا پڑتا ہے اور وہ سب اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق صحت مند افراد میں اتنی زیادہ اموات لمحہ فکریہ ہیں۔

اسی بارے میں