’یونان متبادل اقتصادی اصلاحات میں ناکام ہو گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپی کمیشن یونان کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سات اعشاریہ دو بلین یورو کی قسط دینے سے قبل یونانی معیشت میں مزید اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے جن میں ٹیکس بڑھانا اور حکومتی ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں کٹوتی کرنا شامل ہے

یورپی کمیشن کے صدر یان کلاڈ ینکر نے کہا ہے کہ یونان کے وزیرِ اعظم ایلیکس تسیپرس متبادل معاشی اصلاحات کے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

جی سیون سربراہ کانفرنس میں بات کرتے ہوئے مسٹر ینکر نے یونانی وزیرِ اعظم پر زور دیا کہ وہ ’دیر کیے بغیر‘متبادل تجاویز پیش کریں تاکہ اس ہفتے مذاکرات جاری رہ سکیں۔

جمعہ کو مسٹر تسیپرس نے یورپی کمیشن کی پیش کردہ اصلاحات کو ’فضول‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔

خدشات موجود ہیں کہ یورپ اور یونان کی سائیریزا حکومت کے درمیان تعلقات ختم ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

یونان کے وزیرِ خزانہ یانس ویروفاکس نے یونان کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی طرف سے یونان میں اصلاحات کے نئے مطالبات ’یونان کی حکومت کو دہشت زدہ کرنے کی ایک جارحانہ حرکت ہے۔ لیکن یونان کی حکومت دہشت زدہ نہیں ہوگی۔‘

مسٹر ینکر کا کہنا تھا کہ گو وہ یونانی وزیرِ اعظم تسیپرس کو دوست سمجھتے ہیں لیکن ’دوستوں کو کچھ نہ کچھ اصولوں کی پاس داری کرنا پڑتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یونانی وزیرِاعظم نے ایتھنز کی پارلیمان میں یورپی کمیشن کی تجاویز کو غلط انداز میں پیش کیا اور یہ عندیہ دیا کہ یہ تجاویز ’قبول کرو ورنہ چھوڑ دو‘ کی بنیاد پر تھیں۔ ’حالانکہ یونانی وزیرِ اعظم بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ میں ان بنیادی نکات پر بات کے لیے راضی تھا جن پر عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔‘

یورپی کمیشن یونان کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سات ارب 20 کروڑ یورو کی قسط دینے سے قبل یونانی معیشت میں مزید اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جن میں ٹیکس بڑھانا اور حکومتی ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں کٹوتی کرنا شامل ہے۔

لیکن یونان نے سختی کے ساتھ ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے ذمے قرض کے معاہدے کو ازسرِ نو مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ہفتے کے اوئل میں یونان نے کہا تھا کہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ کو قرض کی تین سو یورو کی قسط تاخیر سے ادا کرے گا اور جون کے آخر میں یک مشت چار قسطیں ادا کر دی جائیں گی۔

بی بی سی کے اقتصادی امور کے ایڈیٹر رابرٹ پریسٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یونان ڈیفالٹ کر سکتا ہے اور یورو زون سے باہر نکل سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں