قدیم شاہراہِ ریشم کی بحالی میں ایرانی دلچسپی

Image caption بیجنگ پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت کی حامل بندرگاہ گودار کی تعمیر میں بہت زیادہ سرگرم ہے

ایران نے کہا ہے کہ وہ قدیم شاہراہِ ریشم کی تعمیر و توسیع کے لیے چین کے اقتصادی معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

یہ قدیم شاہراہ صدیوں سے تجارتی مصنوعات اور ثقافت کو مشرق سے مغرب تک منتقل کرنے کا ذریعہ رہی ہے اور یہ چین، بھارت اور پاکستان کو بحیرۂ روم سے ملاتی ہے۔

اس ’بڑے‘ اور ’پرعزم‘ منصوبے کے تحت علاقائی ممالک کو سڑک، ریل، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا۔

ایران کے نائب وزیر خزانہ مسعود کارباسیان نے انگریزی ٹی وی چینل پریس ٹی وی کو بتایا کہ ’ایران اس منصوبے کا حصہ بننا چاہتا ہے اور وہ اس کے ذریعے مزید ایک کروڑ 20 لاکھ مصنوعات کی نقل و حمل کر سکتا ہے۔‘

بھارت کی ایرانی بندرگاہ کی تعمیر میں دلچسپی

گذشتہ کئی برسوں سے ایران اپنی جنوبی بندرگاہوں کو وسعت دینے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تاکہ انھیں ملک کے شمالی علاقوں سے منسلک کر کے مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

کچھ جنوبی بندرگاہوں کو پہلے ہی ایران کی شمالی سرحد کے قریب ترکمانستان سے ملا دیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین کے وفد نے جنوبی بندرگاہ شاہد راجی کا دورہ کیا ہے۔

کچھ برس پہلے ایران نے ’جنوبی شمالی راہداری‘ بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ اس راہداری کے ذریعے جنوبی ایشائی ممالک کو ایرانی بندرگاہوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ملایا جانا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کو بھارت کی حمایت حاصل ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کی مدد کے بغیر ہی مشرقِ وسطی کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھارت نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے

بھارت ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی تعمیر میں بھی بہت دلچسپی لے رہا تھا۔ چاہ بہار پاکستان کی بندرگاہ گوادر کے قریب ہے۔ گو کہ بعد میں ایران پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔

چین عموماً اس طرح کے منصوبوں میں کافی دلچسپی لیتا ہے، اور وہ پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت کی حامل بندرگاہ گودار کی تعمیر میں بہت زیادہ سرگرم ہے۔ چین کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں ’گودار کاشغر منصوبے‘ کا اعلان کیا۔

اس منصوبے میں چین کی موجودگی سے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بھی بہتر ہو گی۔ گودار کاشغر منصوبے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان کو اس منصوبے سے بہت زیادہ اقتصادی فائدہ ہو گا اور اگر اس منصوبے سے چین تک راہداری بن گئی تو اس میں ایران کی شمولیت سے مزید وسعت آ جائے گی۔

لیکن اس ’عظیم‘ منصوبے کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل بھی ہیں۔

گودار کاشغر منصوبے کے اعلان کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بیان بازی شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں عدم استحکام سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور کسی حد تک گودار اور چاہ بہار کے درمیان ممکنہ لڑائی سے بھی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گودار کاشغر منصوبے میں چین کی موجودگی سے بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گی

ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہیں اور اگر جوہری معاملات پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تب بھی حالات کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ اس کے علاوہ یوکرین کے معاملے پر روس، امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی سے بھی حالات دشوار ہو گئے ہیں۔

چین کا خواہش ہے کہ شاہراہ ریشم کے ذریعے یورپ کو مشرق وسطیٰ، ایران اور ترکی سے منسلک کر دیا جائے اور اس صورت میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں روس کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں