اپنا گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہر سال ہزاروں تارکین وطن افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے یورپ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت سے تارکین وطن بحیرہ روم کا خطرناک سفر کرتے ہیں۔ رواں سال ایسی کوششیں کرنے والوں میں سے 1800 سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تعداد گذشتہ سال سے 20 گنا زیادہ ہے۔

ان میں سے چار خاندان اور چند افراد جنھوں نے لمبا سمندری اور زمینی سفر طے کیا۔ وہ بتا رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا اور یورپ میں اپنے مستقبل کے بارے میں ان کی امیدیں کیا تھیں۔

34 سالہ ستاف مصطفیٰ جنھوں نے گھانا سے مقدونیہ کا سفر طے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ستاف اور گھانا کے باشندوں کا ایک گروہ جنھوں نے اپنے سفر کا آغاز سنہ 2013 میں کیا تھا۔ اور مہینوں تک یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سفر کے دوران چیڈ اور نائجر کے صحراؤں میں شدید سخت حالات کی وجہ سے ان کے بہت سے ساتھی ہلاک ہو گئے تھے۔

مصطفی کے مطابق :’اگر ہم میں سے کسی بھی ساتھی کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تو دوسرے اس کو اپنے سامان میں سے حصہ دینے سے ہچکچاتے تھے جس کا مطلب ہے اپنے دوستوں کو مرتا دیکھنا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’آپ کچھ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اگر آپ ان کو بچانے کی کوشش کرتے تو خود کو خطرے میں ڈال دیتے، اور خود بھی مر جاتے۔ یہ ایسا ہی ہے۔ ہمارے بہت سے دوست صحرا میں مر گئے۔‘

ستاف اور ان کے دوست علی نے بتایا کہ کیسے انھوں نے لیبیا کے ساحل پر پہنچنے کے بعد 50 لوگوں کے ساتھ ایک غبارے والی کشتی میں ترکی کے سفر کا آغاز کیا۔

بنا کسی راستہ دکھانے والے اور اس کشتی کو سنبھالنے والے کے اس سب کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

ستاف نے بتایا ’یہ بہت تھکا دینے والا اور بہت خطرناک سفر تھا۔ ہم سے پہلے کچھ لیبیا کے لوگ روانہ ہوئے تھے وہ سب کے سب مر گئے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ’ہم اس سفر کو جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ ہم بہت اذیت میں تھے۔‘

یونان کی حدود میں پہنچتے ہی تھوڑی راحت ملی اور ستاف مقدونیہ چلے گئے لیکن وہ اب سمگلر گینگ کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ گینگ ستاف کو چھوڑنے کے لیے ان سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔

احمد، لطیفہ اور ان کے تین بیٹے جنھوں نے شام سے جرمنی کے سفر کا فیصلہ کیا۔

رواں سال اپریل میں لطیفہ ان کے خاوند احمد اور تین بیٹوں 12 سالہ کریم، سات سالہ حمزہ اور دو سالہ آدم نے جنگ سے تباہ ہونے والے شام کو چھوڑ کر یورپ میں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وہ اپنے اس سفر کے دوران زیرِ زمین سرنگوں اور دو کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم سے گزرے، جن میں سے ان کی پہلی کشتی کا اختتام حادثے پہ ہوا۔

لطیفہ نے بتایا کہ’ہم 40 افراد تھے اور ہمارا سامان تھا، جیسے ہی ہم اس کشتی پر سوار ہوئے تو ہم جان گئے تھے کہ یہ کشتی ڈوب جائے گی۔‘

جیسا کہ گھر والوں نے کہا تھا کشتی یونان کے ساحل پر مصیبت میں پڑ گئی جس کے بعد تارکین وطن کو مدد کے لیے ساحلی محافظوں کو بلانا پڑا۔

لطیفہ نے کہا کہ’ہم نے اپنا سامان پھینک دیا اور پانی میں چھلانگ لگا دی جہاں ہم نے دو گھنٹے گزارے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’یہ سب سے مشکل وقت تھا، آنسو بہہ رہے تھے۔ ہمیں بھیگ جانے کی وجہ سے سردی لگ رہی تھی اور ہمارے پاس کوئی کمبل نہیں تھا۔‘

تاہم ان برے تجربات کے باوجود اس خاندان نے دوبارہ یورپ جانے کی کوشش کی اور دوسری کوشش میں وہ کامیاب ہوئے، جہاں انھوں نے یونان میں حکام سے رابطہ کیا۔

دارالحکومت ایتھنز سے ہوتے ہوئے وہ مقدونیہ پہنچے وہاں سے سربیا سے ہوتے ہوئے جرمنی میں داخل ہوئے۔

ام معتصم اور ان کی بیٹیاں جنھوں نے شام سے جرمنی کا سفر کیا۔

جولائی سنہ 2013 میں جب خانہ جنگی کی وجہ سے شام کے حالات خراب ہوگئے تو ام معتصم اور ان کے خاوند ابو نمر نے شام کو چھوڑ کر محفوظ رہنے کی امید پر مصر کے شہر سکندریہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنے سفر کا آغاز ابو نمر کی بوڑھی ماں، چھ بیٹیوں اور دو چھوٹے بیٹوں کے ساتھ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تاہم مصر پہنچنے کے بعد ان کے لیے وہاں رہنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ جس کے بعد ام معتصم نے اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ اپنے بڑے بیٹے کے پیچھے جرمنی جانے کا فیصلہ کیا۔

ان تینوں نے اٹلی کے جزیرے لامپیدوسا جانے کے لیے بحیرہ روم میں تین دن کا سفر طےکیا۔

ام معتصم نے بتایا کہ’ہم نے رات کو سفر کا آعاز کیا، ہمارے ساتھ بچے اور عورتیں تھیں۔ ہم نے سمگلروں کے ساتھ بات کی تھی کہ دو سو سے زیادہ لوگ نہ ہوں لیکن جب ہم سوار ہوئے تو لوگوں کی تعداد دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان کی تعداد کم سے کم پانچ سو تھی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ’ہم گھبرائے ہوئے تھے،جگہ بہت تنگ تھی اور یہ ایک ہولناک سفر تھا۔ میں کسی اور کے لیے ایسے سفر کی خواہش کبھی نہیں کروں گی۔‘

18 سالہ عمر غسامہ جنھوں نے گیمبیا سے اٹلی کا سفر کیا۔

نوجوان عمر جو اصل میں سینیگال سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انھوں نے تعلیم گیمبیا میں حاصل کی نے شمالی اٹلی کے شہر ٹیورن جانے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اپنے رنگ کی وجہ سے درپیش مشکلات کی وجہ سے انھوں نے سمگلروں کو پیسے دے کر بحیرہ روم کے راستے سلسلی جانے کا ارادہ کیا۔

عمر نے بتایا کہ’سمندر بہت خوفناک تھا اور کشتی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔‘

دو دن پانی میں سفر کرنے کے بعد انھیں اور ان کے ساتھ دوسرے تارکین وطن کو اٹلی کی بحری افواج نے آکر بچایا اور انھیں ایک ہوٹل میں راہائیش دی۔ جہاں تارکین وطن افراد کو کپڑے، کھانا اور تھوڑا سا وظیفہ دیا جاتا تھا۔

عمر اب ٹیورن چلے گئے ہیں اور وہاں دوسرے تارکین وطن کے ساتھ رہ رہے ہیں جن میں زیادہ تر سینیگال سے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں شاید جرمنی یا برطانیہ چلے جائیں۔

’ میں وہاں جانا چاہتا ہوں جہاں میرا ذہن آزاد ہو۔‘

اسی بارے میں