دولت اسلامیہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے اس وقت کوئی پالیسی نہیں: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ہم چاہتے ہیں کہ مزید اہلکاروں کو بربیت دی جا سکے اور بہتر طور پر مسلح کیا جا سکے اور یہی عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم کئی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں‘

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں علاقوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنے کے حوالے سے امریکہ کے پاس اس وقت کوئی پالیسی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون میں عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور مسلح کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یہ بات جرمنی میں پریس کانفرنس میں کہی۔ اس سے قبل صدر اوباما نے جی 7 اجلاس میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ نے عراقی اتحادیوں کی فضائی کارروائیوں کے باوجود حال ہی میں عراق میں کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس سال مئی میں دولت اسلامیہ نے عراق کے سب سے بڑح صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کا رمادی پر قبضے کی بڑی وجہ عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت کی فقدان ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ عراق میں تین ہزار امریکی اہلکار موجود ہیں جو تربیت دینے کے لیے تعینات ہیں لیکن کئی بار ان کے پاس تربیت دینے کے لیے ریکروٹوں کی تعداد ہی ناکافی ہوتی ہے۔

’ہماری پاس ابھی کوئی پالیسی نہیں ہے کیونکہ عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ بھرتیاں ہو رہی ہیں اور تربیت کیسے دی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ مزید اہلکاروں کو بربیت دی جا سکے اور بہتر طور پر مسلح کیا جا سکے اور یہی عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم کئی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کو یقین ہے کہ دولت اسلامیہ کو عراق سے باہر دھکیلا جا سکتا ہے اگر حیدر العبادی کو بین الاقوامی اتحاد اور عراقی حکومت کی حمایت حاصل ہو۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ برطانیہ 125 تربیت کار عراق بھیج رہا ہے۔

اسی بارے میں