کیا بکھرا ہوا خاندان خوش ہو سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

طلاق شدہ والدین کے ساتھ پلنے بڑھنے والے بچوں کی قسمت میں کیا اداسی ہی لکھی ہے؟

انڈونیشیا میں ایک بچہ اس بات سے اختلاف کرتا ہے اور اپنے والدین اور گھریلو زندگی کے بارے میں بنائی گئی اس کی ویڈیو کی ہزاروں لوگوں نے تعریف کی ہے۔

ویڈیو کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: ’میرا نام ازکا ہے اور یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جس کے والدین کی طلاق ہو چکی ہے۔‘ پتلوں اور الفاظ کی مدد سے نو سالہ ازکا کوربزیئر اپنے والدین کے رشتے کی شادی سے طلاق تک کی کہانی بیان کرتا ہے۔ تاہم ایسے موضوع کے باوجود یہ ایک غمگین کہانی نہیں ہے۔ ازکا کے والدین ایک دوسرے کے قریب ہی رہتے ہیں، ان کے تعلقات ٹھیک ہیں اور ازکا دونوں کے لیے اظہارِ محبت کرتا ہے۔

ازکا بتاتا ہے کہ ’اب وہ لڑتے نہیں ہیں۔ اب ہم شاپنگ اور چھٹیوں پر بھی اکٹھے جاتے ہیں۔ جب آپ کو دونوں والدین سے اتنا ہی پیار ملتا ہو تو وہ گھر بکھرا ہوا نہیں ہوتا۔‘

اس انڈونیشیائی لڑکے کی یوٹیوب ویڈیو ساڑھے تین لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے اور دنیا بھر سے انھیں تعریف اور پیار کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ ایک شخص نے لکھا کہ ’اتنی خوبصورت ویڈیو بنانے کے لیے شکریہ۔ یہ میں نے اپنی ماں اور بہن کو دکھائی تو وہ رو پڑیں۔‘

اس کے علاوہ دوسری لوگوں نے بھی اس بارے میں اپنی کہانیاں سنائیں۔ ایک مداح کا پیغام تھا کہ ’یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ کی سمجھ میں اتنی سی عمر میں یہ بات آ گئی ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ خوش ہو سکتے ہیں۔‘

چونکہ ازکا کے والد ایک معروف انڈونیشیائی ٹی وی پریزنٹر ہیں اس لیے اکثر اجنبی ان سے یہ پوچھتے تھے کہ وہ اپنے والدین کی طلاق کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔

اسی لیے ازکا نے سوچا کہ میں اس سوال کا ایک ہی بار سب کو جواب دے دوں۔ ان کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار یہ ویڈیو دیکھی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کے خیال میں ’اس کا ردعمل مثبت بھی ہو سکتا تھا اور منفی بھی۔‘

ازکا کے والد ڈیڈی کوربزیئر بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے اپنے بیٹے کو طلاق کے بارے میں بتایا تو اس کے ابتدائی سوال پر وہ اور ان کی بیوی حیران ہوگئے۔ ازکا کا پہلا سوال تھا کہ ’تو اب میں کس کے ساتھ جاؤں؟‘

’ہم نے اسے بتایا کہ آپ جس گھر میں رہتے ہیں، اسی گھر میں رہیں گے۔ اس پر ازکا نے کہا چلو ٹھیک ہے۔ ہم نے اپنے گھر کا نام تبدیل کر کے ازکا کا گھر کہنا شروع کر دیا۔ اس کی والدہ قریب ہی رہتی ہیں اور وہ تقریباً روز ہی ازکا سے ملنے آتی ہیں۔‘

انڈونیشیا میں آج بھی طلاق کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ملک کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ڈیڈی کوربزیئر کیتھولک عیسائی ہیں اور ان کی سابقہ بیوی مسلمان۔ ازکا کے والد کہتے ہیں کہ اگرچہ بین المذہبی شادی پریشان کن بات نہیں، تاہم مجھے خدشہ تھا کہ دیگر بچے ازکا کو طلاق شدہ والدین ہونے کی وجہ سے تنگ نہ کریں، خاص کر اس لیے کہ ان کے والد معروف شخصیت ہیں اور طلاق کی خبر بہت سے لوگوں کو معلوم ہے۔

ازکا اپنی پروفائل پر لکھتے ہیں کہ وہ انڈونیشیا کے کم عمر ترین یوٹیوب ویڈیو بلاگر ہیں۔ شاید وہ خود بھی ایک معروف شخصیت بن گئے ہیں، اور انسٹاگرام پر ان کے 60 ہزار مداح ہیں۔

بہت سے لوگوں نے ازکا کی اس کم عمری میں سمجھداری کی تعریف کی۔ ازکا کو امید ہے کہ ان کی اس ویڈیو سے ایسے دوسرے بچوں کو مدد ملے گی جن کے والدین کے درمیان طلاق ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں