پادریوں کےجرم چھپانے والوں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ نےبچوں سے زیادتی کے مرتکب پادریوں کا تحفظ کرنے پر چرچ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا

پوپ فرانسس نےایک ایسےٹرائیبونل کےقیام کی منظوری دی ہے جو بچوں سےجنسی زیادتی کرنے والے پادریوں کی پردہ پوشی کرنےوالےبشپوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ویٹیکن کی جانب سے ٹرائیبونل کے قیام کا غیر معمولی اقدام اس پینل کی شفارش پر کیاگیا ہے جسے پوپ نے2013 میں بچوں کےساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد قائم کیا تھا۔

اس ٹرائبیونل کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ اُن بشپوں کے بارے میں فیصلہ کر سکیں جنہوں نے اپنے ماتحت پادریوں کے جرائم کی پردہ پوشی کی ہو۔

پادریوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں کے ایک گروپ کا ویٹیکن سے دیرینہ مطالبہ تھا کہ بشپوں کو اپنے حلقہ اختیار میں جنسی زیادتیوں کا جوابدہ بنایا جائے۔

پچھلے برس اقوام متحدہ نے جنسی زیادتیوں کو روکنے میں ناکامی اور زیادتی کے مرتکب پادریوں کا تحفظ کرنے پر چرچ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ویٹیکن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ ٹرائبیونل ’کانگری گیشن فار دی ڈاکٹرائن آف فیتھ‘ کے زیرِ انتظام چلے گا۔

بیان کے مطابق اس ٹرائبیونل کا مقصد ایسےبشپوں کا احاطہ کرنا ہے جن کے دور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے ہوں اور انھوں نے جرم کے مرتکب افراد کا تحفظ کرنے کی کوشش کی ہو۔

جرمنی میں ایک پادری نے 2012 میں تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے ایک عشرے پر محیط عرصے میں 280 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

ویٹیکن کے ترجمان فادر فیڈریکو لمبارڈی نے کہا کہ ٹرائبیونل ایسے بشپوں کے بارے میں رائے قائم کرے گا جو اپنے حلقہ اختیار میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ارتکاب روکنے میں ناکام رہے ہوں۔

جنسی زیادتی کی کسی شکایت کی ابتدائی تفتیش ویٹیکن کے تین محکموں میں سے ایک کرےگا جس کے بعد ان کا فیصلہ ڈاکٹرئینل ڈیپارٹمنٹ کرے گا۔

بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کی تنظیم، این اے پی اے سی کی چیف ایگزیکٹو گیبریئل شاہ نے ویٹیکن کے فیصلے کو سراہا۔گیبریئل شاہ نے کہا کہ وہ ہر ایسے اقدام کا خیرمقدم کریں گے جس میں پادریوں کی زیادتیوں کا جائزہ لے جائے اور چرچ کے معاملات میں شفافیت نظر آئے۔

اسی بارے میں