نوجوانوں سے بدسلوکی پر پولیس اہلکار مستعفی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی ریاست ٹیکسس میں حکام کے مطابق نوجوانوں کے ایک گروپ سے ’بدسلوکی‘ کے ملزم پولیس اہلکار نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس گروپ میں زیادہ تر سیاہ فام نوجوان شامل تھے جو ایک سوئمنگ پول کے نزدیک جمع تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیلس کے نواحی علاقے میک کینی کے 41 سالہ کارپورل ایرک کیسبولٹ نے منگل کو ’اپنی مرضی‘ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

ایرک کو جو کہ سفید فام ہیں، جمعے کو انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دو لڑکوں پر پستول تانتے اور ایک 15 سالہ سیاہ فام لڑکی کو زمین پر گراتے دیکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ایرک جائے وقوع پر مقامی افراد کی جانب سے اس شکایت کے بعد پہنچے تھے کہ تیراکی کے ایک تالاب کے پاس کچھ گڑبڑ ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد انھیں انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا تھا تاہم سینکڑوں افراد نے جلوس نکال کر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں میک کینی کی پولیس کے سربراہ گریگ کونلی نے ایرک کیسبولٹ کے اقدامات کو ’ناقابلِ دفاع‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری پالیسی، ہماری تربیت ان کی حرکات کی حمایت نہیں کرتی اور جیسا ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ واقعے کے وقت آپے سے باہر تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینکڑوں افراد نے جلوس نکال کر ایرک کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا

گریگ کنولی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت وہاں 12 پولیس اہلکار تھے جن میں سے 11 نے تربیت کے عین مطابق عمل کیا اور ’شاندار کام کیا۔‘

میک کینی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں پہلے ہی سیاہ فام آبادی کی جانب سے متعدد بار پولیس پر بےجا تشدد کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔

رواں برس امریکی پولیس کے ہاتھوں کئی غیر مسلح سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں سے مختلف امریکی شہروں میں شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا اور مظاہرے کیے گئے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکی حکام کے اعداد و شمار کے برعکس ملک میں پولیس کے ہاتھوں روزانہ دو سے زائد افراد مارے جاتے ہیں اور ان میں اکثریت سیاہ فام شہریوں کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملک میں پولیس کے ہاتھوں 385 افراد مارے گئے۔

اسی بارے میں