انتخابی نتائج اردوغان کے لیے واضح اشارہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کسی بھی مخلوط حکومت کا نقطۂ آغاز یقیناً حکومت کا صدارتی نظام کے ارادوں سے دستبرداری کا اعلان بھی ہوگا

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کا استعفٰی آئینی اور قانونی نقطۂ نظر سے صرف ضابطے کی کارروائی تو ہے لیکن اس سے اُس عمل کا آغاز ہوگیا جس کا ممکنہ اختتام ترکی میں ایک اور الیکشن پر بھی ہو سکتا ہے۔

اس استعفے کے ذریعے احمد داؤد اوغلو وزیراعظم سے عبوری وزیراعظم بھی بنے ہیں اور پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے اگلی وزارت عظمٰی کے امیدوار بھی۔

آئینی طور پر اب اُن کے پاس 45 روز ہیں کہ وہ اپنی حکومت تشکیل دیں سکیں۔

اگر وہ ایسا نہیں کرسکے اور اپوزیشن کی جماعتیں بھی تنہا یا مشترکہ طور پر حکومت سازی کا دعوٰی نہ کر سکیں تو ملک کی سپریم الیکشن کونسل دو ماہ کے بعد نئے سرے سے الیکشن کا اعلان کر دے گی۔

پارلیمان میں چار جماعتیں موجود ہیں جن میں انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی یا ایم ایچ پی اور بائیں بازو کی کرد نواز جماعت ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی یا ایچ ڈی پی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کو کم از کم فی الوقت تو مسترد کر رہی ہیں جب کہ تیسری جماعت نے اگر مخلوط حکومت میں شمولیت کو مسترد نہیں کیا تو اِس پر رضامندی بھی ظاہر نہیں کی۔

اپوزیشن کی تین میں سے دو جماعتیں، کردوں سے کسی بھی طرح کے مذاکرات کے انتہائی خلاف موقف کی علمبردار ایم ایچ پی اور کرد حقوق کی علمبردار ایچ ڈی پی، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر بالکل رضامند نہیں ہیں جبکہ دونوں جماعتوں کے حزب اختلاف کی تیسری جماعت سی ایچ پی یا ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی کئی امور پر اختلافات ہیں۔

اس تناظر میں تینوں کی مشترکہ حکومت کا امکان خاصا کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئینی طور پر اب احمد داؤد اوغلو کے پاس 45 روز ہیں کہ وہ اپنی حکومت تشکیل دیں سکیں

تینوں جماعتوں میں بظاہر واحد قدرِ مشترک صدر رجب طیب اردوغان کے لیے تینوں کی نفرت کی حدوں کو چھوتی ہوئی مخالفت ہے۔

اگر تینوں صرف اردوغان کی مخالفت میں حکومت بنا لیتی ہیں تو بھی ایسی حکومت کے پاس نہ تو آئینی ترمیم یا اُس پر ریفرینڈم کرانے کی عددی اکثریت ہوگی اور نہ ہی مؤثر طور پر ایک مربوط پالیسی کے تحت حکومت چلانے کی اہلیت۔

اس صورتحال کا لازمی نتیجہ قبل از وقت انتخابات ہوں گے لیکن ان انتخابات میں ایسی کسی بھی مخلوط حکومت کی کارکردگی کا موازنہ اے کے پارٹی کی 13 برس کی مستحکم حکومت کی کارکردگی سے کیا جائے گا۔

اور اِس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اِس ممکنہ سیاسی سر پھٹول کے بعد اگلے انتخابات میں اے کے پارٹی اکثریت حاصل نہ کرے۔ حقیقتاً اس بار بھی یہ جماعت سادہ اکثریت سے ذرا ہی فاصلے پر تو ہے۔

اور ایک امکان یہ بھی ہے کہ صدر اردوغان ایسے قبل از وقت الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی استعفٰی دے کر انتخابی میدان میں کود پڑیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی موجودگی اے کے پارٹی کے لیے تقویت کا باعث بن جائے۔

اِس لیے شاید اپوزیشن جماعتیں محض مختصر وقت کے لیے ایسا جوا نہ کھیلیں۔

اور جہاں تک خود حکمران جماعت کا تعلق ہے تو اُس کے پاس مخلوط حکومت کے لیے ویسے تو تمام جماعتوں سے رابطے کا راستہ کھلا ہے لیکن مخلوط حکومت کا جو بھی تھوڑا بہت امکان موجود ہے وہ سی ایچ کے ساتھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بائیں بازو کی کرد نواز جماعت ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی یا ایچ ڈی پی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کو کم از کم فی الوقت تو مسترد کر رہی ہے

ایسی ممکنہ حکومت نہ صرف عددی لحاظ سے بہت مضبوط ہوگی بلکہ متفقہ آئینی ترامیم کی بھی اہل ہوگی۔

انتخابات کے دوران خود سی ایچ پی بھی آئین میں ترامیم کی ضرورت کا اقرار کرتی رہی ہے اور معیشت اور کردوں کے مسائل سمیت کئی امور پر اُس کے اور جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے موقف میں کوئی بہت زیادہ فرق بھی نہیں ہوتا۔

ایسی کوئی بھی حکومت وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو بھی صدر کے دائرہ اثر سے باہر نکل کر ایک علیحدہ رہنما کے طور پر ابھرنے کا موقع دے سکتی ہے اور اِس لحاظ سے بھی یہ وزیراعظم کے سیاسی مفاد میں ہوگا۔

اور سچ تو یہ ہے کہ سیاست ایسا ہی بے رحم پیشہ ہے جس میں کسی نہ کسی موقع پر اپنے مفاد میں خود کو اپنے ہی محسن سے الگ کرنا پڑتا ہے۔

تاہم ایسی کسی بھی مخلوط حکومت کا نقطۂ آغاز یقیناً حکومت کا صدارتی نظام کے ارادوں سے دستبرداری کا اعلان بھی ہوگا اور یہ اعلان صدر اردوغان کے لیے بھی یہ واضح اشارہ ہوگا کہ انھیں اب یا تو آئین کے تحت غیرجانبدار اور بےاختیار صدر بننا ہوگا یا عہدۂ صدارت چھوڑنا ہوگا۔

اور یہی چیز اس اہم ترین سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا صدر اردوغان اپنے حمایتیوں کے ذریعے اپنی ہی بنائی ہوئی جماعت کو ایک نیا راستہ اپنانے سے روک سکیں گے۔

اس کا جواب اثبات میں اِس لیے ہے کہ شاید خود اُن کے پاس اس وقت اِس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں