امن مشن کے فوجی سیکس کے بدلے اشیا دیتے ہیں: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روئٹرز کے مطابق ان دو ممالک سے حاصل کیے گئے شواہد سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اشیا کے بدلے میں سیکس عام ہے لیکن اس کو رپورٹ نہیں کیا جاتا

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے فوجی باقاعدگی سے لوگوں کو سیکس کے بدلے میں اشیا دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ہیٹی اور لائبیریا میں سینکڑوں عورتیں بھوک اور مفلسی کے باعث اپنے آپ کو سیکس کے لیے فراہم کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

اس کے بدلے میں ان خواتین کو زیورات، نقدی، موبائل فون اور دیگر اشیا دی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ 2008 سے 2013 تک 480 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک تہائی واقعات میں بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہیٹی اور لائبیریا میں سینکڑوں خواتین سے سروے کیا گیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ان خواتین نے کہا کہ بھوک، مفلسی اور لائف سٹائل بہتر کرنے کے لیے انھوں نے امن مشن کے فوجیوں کے ساتھ سیکس کیا۔

روئٹرز کے مطابق ان دو ممالک سے حاصل کیے گئے شواہد سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اشیا کے بدلے میں سیکس عام ہے لیکن اس کو رپورٹ نہیں کیا جاتا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے پاس بھی اس رپورٹ کا مسودہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہیٹی میں پچھلے سال 231 افراد نے کہا کہ انھوں نے اشیا کے بدلے میں سیکس میں حصہ لیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکس کے بعد اگر کسی خاتون کو وعدے کے مطابق اشیا نہ دی جاتیں تو وہ فوجیوں کے بیجز رکھ لیتیں اور دھمکی دیتیں کہ اگر وعدہ پورا نہ کیا تو سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی شناخت عام کر دی جائے گی۔

اے پی کے مطابق 2014 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے فوجیوں کے خلاف 51 ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ تعداد 2013 کے مقابلے میں کم ہے جب 66 الزامات لگائے گئے تھے۔

اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں سوا ایک لاکھ امن فوجی تعینات ہیں۔

اسی بارے میں