’برہنہ ہونے کا عمل بیوقوفانہ اور توہین آمیز تھا‘

Image caption ہاکنز کے والد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے

ملائیشیا میں کوہِ کنابلو پر مبینہ طور پر برہنہ حالت میں تصاویر کھنچوانے کے الزام میں گرفتار ایک برطانوی خاتون کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کا عمل ’بیوقوفانہ اور توہین آمیز‘ تھا۔

برطانوی شہر ڈربی سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ ایلننور ہاکنز ان دس سیاحوں میں شامل ہیں جنھوں نے 30 مئی کو کوہِ کنابلو پر جا کر اپنی برہنہ تصاویر کھینچیں اور پہاڑ پر پیشاب بھی کیا۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس حرکت پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ان سیاحوں پر امنِ عامہ خراب کرنے کی فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

کوہِ کنابلو پر گذشتہ جمعے کو ریکٹر سکیل کے مطابق 6.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گذشتہ ہفتے ایک سینیئر وزیر نے کہا تھا کہ سیاحوں نے پہاڑ کی روح کو غصہ دلا دیا تھا۔ مقامی طور پر کوہِ کنابلو کو مقدس اور مذہبی طور سے اہم پہاڑ تصور کیا جاتا ہے۔

بدھ کو ایلننور ہاکنز اپنےتین دیگر ساتھیوں سمیت ایک مقامی عدالت میں ریمانڈ کی توسیع کے لیے پیش ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہالینڈ کے ایک اور کینیڈا کے دو شہری شامل ہیں۔ تفتیش کے لیے انھیں سنیچر تک حراست میں رکھا جائے گا۔

ہاکنز کے والد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹھیک ہو گا کہ ان کی بیٹی کو معمولی جرم کی سزا دی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی اور وہ ابھی ٹھیک ہیں۔

اخبار گارڈیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں ملائیشیا کے عدالتی نظام پر بھروسہ ہے مگر وہ امید کرتے ہیں کہ ان سیاحوں کو مثال بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

ادھر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رناؤ ضلعے کے پولیس چیف محمد فاران لی عبداللہ نے بتایا کہ منگل کو سباہ میں توا ہوائی اڈّے سے ایلینور ہاکنز کو گرفتار کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سباہ کے کدزان دسن قبیلے کا خیال ہے کہ اس پہاڑ میں ان کے آبا و اجداد کی روحیں موجود ہیں

حکام ان لوگوں کے خلاف امنِ عامہ خراب کرنے کی فردِ جرم عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ حکام چھ مزید سیاحوں کی تلاش کر رہے ہیں جو کہ اسی گروہ کا حصہ تھے۔ سباہ صوبے کے پولیس کمشنر جلال الدین عبد الرحمان اسی روز ان کے دیگر ساتھیوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

ان کے وکیل رونی چام نے بی بی سی کی نامہ نگار جینیفر پاک کو بتایا کہ انھوں نے حکام سے درخواست کی ہے کہ ان کے موکلوں کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر دیگر قیدیوں سے علیحدہ رکھا جائے۔

ملائیشیا معاشرتی طور پر ایک قدامت پسند مسلمان ملک ہے اور سباہ کے کدزان دسن قبیلے کے لیے کوہِ کنابلو ایک مقدس مقام ہے۔

جب سیاحوں نے یہ تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کیں تو ملائیشیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور دوسری طرف زلزلے کے بعد اس میں شدت آ گئی۔

کوہِ کنابلو مقدس کیوں ہے؟

سباہ کے کدزان دسن قبیلے کا خیال ہے کہ اس پہاڑ میں ان کے آبا و اجداد کی روحیں موجود ہیں۔ اس پہاڑ کا نام کنابلو بھی اس قبیلے کے ایک محاورہ ’اکی نابلو‘ سے آتا ہے، جس کا مطلب مر جانے والوں کی آرام گاہ۔ سیاحوں کو گائیڈ ہمیشہ ہدایات دیتے ہیں کہ اس پہاڑ کا احترام کیا جائے اور اس پر جاتے وقت چیخنے چلانے سے پرہیز کیا جائے۔

ہر دسمبر میں کدزان دسن قبیلے کے لوگ مونلب نامی مذہبی رسومات کا انعقاد کرتے ہیں اور اُن کا عقیدہ ہے کہ ان رسومات کی وجہ سے لوگ پہاڑ پر بغیر اپنے آبا و اجداد کی توہین کے چڑھ سکیں گے۔

اس موقعے پر بوبلیاں نامی ایک راہبہ اس پہاڑ کو سات سفید مرغیوں، سات مرغیوں کے انڈوں، پان کے پتوں، تمباکو اور چونے کا نذرانہ پیش کرتی ہیں۔

اسی بارے میں