قطری لوگ تنقید سے ناخوش ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوحا میں ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سینئر حکومتی اہلکار بھی ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ساری دنیا ان کی مخالف ہو گئی ہے

کچھ ہی دہائیوں قبل، تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہونے اور فیفا 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق حاصل کرنے سے پہلے قطری لوگ دنیا کی نظروں سے دور کاشت کاری اور سمندر سے ہیرے نکالا کرتے تھے۔ آج وہ اپنے پر ہونے والی شدید تنقید پر ناخوش ہیں۔

دوحا میں ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سینئر حکومتی اہلکار بھی ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ساری دنیا ان کی مخالف ہو گئی ہے۔ حکومتی وزرا کی جانب سے منظرِ عام پر تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ فیفا کے حوالے سے متواتر بدعنوانی اور لاکھوں جنوبی ایشیائی مزدوروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات صرف اس چھوٹے سے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔

لیکن ایک 30 سالہ قطری شہری کا کہنا ہے کہ ایک اور خوشگوار تبدیلی آ رہی ہے جو کہ میڈیا میں زیادہ زیرِ بحث نہیں ہے اور وہ ہے ملک میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر۔

انھوں نے کہا کہ ٹوئٹر پر نوجوان قطریوں کی مثال دی جنہوں نے ان نیپالی باشندوں کی مدد کی جو کہ اپنے ملک میں زلزلے کے بعد ریلیف کا کام کرنا چاہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی مہم کی وجہ سے کمپنیوں کو نیپال میں زلزلے کے لیے اپنے ملازمین کو واپس بھی جانے دینا پڑا اور ساتھ میں زیادہ عطیات بھی دینے پڑے۔

مگر یہ صرف غیر ملکی ہی نہیں جن کو متحرک میڈیا کا فائدہ ہوتا ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک تعمیراتی کمپنی کے ملازم جن کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور جو بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ہیں، نے بتایا کہ وہ ایسی تمام میڈیا کی توجہ کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ملک میں کام کرنے کے ماحول میں بہتری آئے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ان کے سمیت دیگر قطری شہری، غیر ملکی ملازمین اور کم ہنرمند تارکینِ وطن افراد میں سے کوئی بھی اپنے افسران کی مرضی کے بغیر ملازمت چھوڑ نہیں سکتا۔

انھوں نے کہا کہ میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے ملازمتوں کے ماحول میں بہتری آئے گی۔ مگر یہ دباؤ قطر میں داخلی سطح پر نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ اس ملک میں آزادانہ صحافت کی روایات موجود نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ sin credito
Image caption سوئس استغاثہ سنہ 2022 میں قطر اور سنہ 2018 میں روس کو عالمی کپ کی میزبانی کا حق کے دیے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے

اخباروں اور جریدوں کی اشاعت کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے اور مقامی صحافیوں کو خدشہ رہتا ہے کہ یہ اجازت کبھی بھی ختم کی جا سکتی ہے اسی لیے وہ احتیاط سے کام کرتے ہیں۔

اس کے لیے علاوہ پرنٹنگ کرنے والی کمپنیاں بھی ایک سیاسی اور کاروباری برادری ہے جو کہ دیگر عناصر پر تنقید کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

ٹی وی کی نشریات میں بھی ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے اور غیر ملکی صحافیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

چند ہی ماہ میں دوحا گلوبل میڈیا کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کی توجہ کا مرکز آزادیِ صحافت ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے مثبت اثرات ورلڈ کپ تک منظرِ عام پر آجائیں۔

قطری رہنمائوں کو ابھی فیفا ورلڈ کپ کی بدولت ملنے والے توجہ اچھی لگ رہی ہے۔ یہ عرب ثقافت اور اندازِ میزبانی کو پیش کرنے اور قطر کے دیگر مفادات جیسے کہ سیاحت کا فروغ کرنے کے لیے نادر موقع ہے۔

بہت سے قطری اس بات پر بھی خوش ہیں کہ نومبر میں ورلڈ کپ کروا کر وہ یہ روایت قائم کر رہے ہیں کہ دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جہاں موسم انتہائی گرم ہوتا ہے، بھی اس میزبانی کا حق حاصل کر سکیں۔

اسی بارے میں