’سنوڈن کی فائلیں برطانوی جاسوسوں کی منتقلی کی وجہ بنیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایڈورڈ سنوڈن نگرانی کے خفیہ پروگرام ’پرِزم‘ کی تفصیلات سامنے لانے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب ہیں

برطانوی حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی ادارے این ایس اے کے سابق ملازم کی جانب سے افشا کی جانے والی دستاویزات کی وجہ سے برطانیہ کو اپنے جاسوسوں کو منتقل کرنا پڑا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خطرہ تھا کہ چینی اور روسی حکام ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی ان دستاویزات کو پڑھ سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کا کہنا ہے کہ روس اور چین ان کمپیوٹر فائلوں کی انکرپشن کا توڑ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کچھ ممالک کے پاس ایسی ’معلومات‘ تھیں جن سے برطانوی ایجنٹس یا جاسوسوں کا پتہ چل سکتا تھا اور اسی وجہ سے انھیں منتقل کیا گیا۔

تاہم ذرائع نے کہا اس بات کا ’کوئی ثبوت نہیں ہے‘ کہ کسی بھی جاسوس کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔

برطانوی حکومت کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس اور چین نے جو معلومات حاصل کی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ’وہ ہمارے طریقۂ کار کے بارے میں جان گئے ہیں‘ اور اس وجہ سے برطانیہ ’انتہائی ضروری معلومات‘ حاصل نہیں کر پا رہا۔

آج کل روس میں مقیم 31 ایڈورڈ سنوڈن نے یہ خفیہ معلومات دو برس قبل عام کی تھیں۔

این ایس اے کے اس سابق ملازم نے 2013 میں اس وقت امریکہ چھوڑ دیا تھا جب انھوں نے امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے راز افشا کیے تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ ایجنسی بڑے پیمانے پر امریکہ اور دنیا کے مختلف ممالک میں فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کی غیر قانونی نگرانی کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption این ایس اے کے اس سابق ملازم نے 2013 میں اس وقت امریکہ چھوڑ دیا تھا جب انھوں نے امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے راز افشا کیے تھے

ان معلومات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکہ میں بحث شروع ہوگئی تھی کہ این ایس اے کی جانب سے سکیورٹی اور قومی سلامتی کے نام پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا کس قدر جائز ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن امریکی حکومت کی طرف سے لوگوں کی نگرانی کرنے کے خفیہ پروگرام ’پرِزم‘ کی تفصیلات سامنے لانے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ چھوڑنے سے قبل ایڈورڈ سنوڈن نے 17 لاکھ خفیہ دستاویزات ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔

امریکہ میں ایڈورڈ سنوڈن پر سرکاری مواد چرانے، بغیر اجازت دفاعی معلومات فراہم کرنے اور خفیہ معلومات دانستہ افشا کرنے کے الزامات ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور چین کا معلومات حاصل کرنے کا مطلب تھا کہ ’ہمارے کام کے بارے میں علم‘ نے برطانیہ کو ’اہم معلومات‘ تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔

بی بی سی نامہ نگار کرس مورس کے مطابق برطانوی حکام کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ ایجنٹس ناصرف اپنی جگہ تبدیل کر چکے تھے بلکہ اب وہ ان جگہوں پر رہ کر کام بھی نہیں کر رہے تھے۔

ان کے مطابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ انٹیلی جنس حکام کو بھی اس بارے میں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس کے برطانوی عوام کے تحفظ پر کیا اثرات ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنوڈن نے اگست 2013 میں روس میں پناہ لی تھی

سنڈے ٹائمز کے مطابق مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات کی رسائی روس کو حاصل ہونے کی بعد ’مخالف ممالک‘ سے اپنے ایجنٹس واپس بلانے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

اخبار کے مطابق سینیئر حکومتی سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین نے بھی انکرپٹڈ دستاویزات کو کریک کر لیا ہے جس سے کی مدد سے برطانوی اور امریکی جاسوسوں کی شناخت ممکن ہوجائے گی۔

سنڈے ٹائمز کی خبر کے شریک لکھاری ٹم شپمین نے بی بی سی کو بتایا: ’میری معلومات کسی برے کے ہاتھ نہیں لگیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تحکمانہ انداز میں ڈاؤننگ سٹریٹ، ہوم آفس، انٹیلی جنس سروسز کے لوگوں نے بتایا ہے کہ روس اور چین کے پاس یہ تمام معلومات ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے جاسوسوں کو واپس بلانا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکام ایڈورڈ سنوڈن کے معلومات حاصل کرنے پر برہم ہیں۔

اخبار میں برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی جی سی ایچ کیو کے سابق ڈائریکٹر سر ڈیوڈ اومنڈ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کیا ہے کہ روس اور چین کی معلومات تک رسائی ’ایک بہت بڑا سٹریٹیجک دھچکہ‘ ہے جو برطانیہ، امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کو ’نقصان‘ پہنچا رہا ہے۔

اسی بارے میں