پاکستان، لبنان اور ترکی میں پناہ گزین دس دس لاکھ

شامی پناہ گزین
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پناہ گزینوں کا بوجھ نہ بانٹنے پر عالمی برادری پر سخت تنقید کی ہے۔

حقوق انسانی کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پناہ گزینوں کے معاملے پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں عالمی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی بنانے اور اِس مقصد کے لیے ایک بین الاقوامی سربراہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق دنیا میں پناہ گزینوں کی کل تعداد کا چھیاسی فیصد ترقی پذیر ملکوں میں ہے جبکہ صرف اور صرف دو اعشاریہ دو فیصد پناہ گزینوں کو دیگر ملکوں نے اپنے یہاں جگہ دی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور لبنان دنیا میں تین ایسے ملک ہیں جہاں اب بھی دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق دنیا بھر میں دس لاکھ کے لگ بھگ پناہ گزین ایسے ہیں جنھیں نئی سکونت یا اِسی نوعیت کی دوسری انسانی مدد کی شدید ضرورت ہے۔

ایمنسٹی نے پناہ گزینوں کی وجہ سے اِن ترقی پذیر ملکوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کا بھی اپنی رپورٹ میں خاص طور پر تذکرہ کیا ہے اور عالمی برادری کی طرف سے مالی مدد تک نہ کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ادارے کے بقول اقوام متحدہ نے شامی پناہ گزینوں کی وجہ سے پڑوسی ملکوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ میں مدد دینے کی جو اپیل کی تھی، اُس میں جن رقوم کا وعدہ کیا گیا تھا، صرف تئیس فیصد وعدے پورے کیے ہیں۔

شام کی خانہ جنگی کے تناظر میں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ چالیس لاکھ سے زیادہ شامی باشندے جنگ و جدل سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگے ہیں اور ان میں 95 فیصد شام کے پڑوسی ملکوں ترکی، اردن اور لبنان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ادارے نے اس بہت بڑے بوجھ کو بانٹنے میں امیر ملکوں کی ناکامی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوری سے لےکر اب تک بحیرۂ روم کے پانیوں میں ڈوب کر 19 سو کے قریب لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے ابتدائی پانچ ماہ میں بحیرۂ روم میں ڈوب کر مرنے والوں کی تعداد سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ بحیرۂ روم پار کرکے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں میں سب سے زیادہ تعداد شامی باشندوں کی تھی۔

جنوب مشرقی ایشیا کے حوالے سے سمندر میں بے یارومددگار پھرنے والے ہزارہا لوگوں کی حالت زار پر بھی ایمنسٹی نے علاقے کے ملکوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس بحران سے حکومتیں کے اِس رویے کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے معاملے پر اپنی عالمی اور قانونی ذمہ داریوں سے بھی نظریں چرا سکتے ہیں۔

ایمنسٹی نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق عالمی چارٹر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 145 پینتالیس ملکوں کی طرف سے اِس کی توثیق کے باوجود کئی جگہوں پر ایسے ایسے بڑے خطے ہیں جہاں کئی کئی ملکوں نے اس چارٹر کی توثیق نہیں کی۔

ایمنسٹی نے پناہ گزینوں کے مسئلے پر ایک بین الاقوامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف ایک بھرپور اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے ہی مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں