آسٹریلیا: انسانی سم‏گلروں کو رشوت دینے پر تحقیقات کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسٹریلیا پناہ گزینوں کے معاملے میں بہت سخت ہے

آسٹریلیا میں اس امر کی تحقیات کا مطالبہ بڑھتا جا رہا کہ آیا سرکاری اہلکاروں نے پناہ گزینوں کی کشتی کو واپس موڑنے کے لیے عوام کے پیسے کا استعمال کیا تھا؟

حزب اختلاف نے حکومت پر سرکاری فنڈز کے بے جا استعمال کا الزام لگاتے ہوئے چیف آڈیٹر سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ان الزامات کی تردید سے انکار کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے حکام نے انسانی سمگلروں کو تارکینِ وطن کی کشتی انڈونیشیا کی جانب واپس موڑنے کے لیے پیسے دیے۔

اقوام متحدہ نے ان الزامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اگر یہ واقعی صحیح ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ ان کے اہلکاروں کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تارکین وطن کو آسٹریلیا لے جانے والی کشتی کے عملے کو ایک آسٹریلوی بیڑے نے کشتی کو انڈونیشیا کی جانب واپس لے جانے کے لیے ہزاروں ڈالر دیے۔

سنیچر کو انڈونیشیا کی حکومت نے کہا کہ اگر آسٹریلیا نے پناہ گزینوں کو واپس انڈونیشیا بھیجنے کے لیے پیسے دیے ہیں تو یہ پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے معاملے میں ’ایک نئی گراوٹ‘ ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزین کے متعلق آسٹریلیا کی پالیسی زیرو ٹالرینس کی ہے

وزارت خارجہ کے ترجمان ارمناتھ ناصر نے کہا کہ آسٹریلیا واپس بھیجنے کی اپنی پالیسی کے تعلق سے ’ایک پھسلن بھرے نشیب‘ پر ہے۔

پیر کو سڈنی مارننگ ہیرالڈ نامی اخبار نے کہا کہ حزب اختلاف لیبر کے رہنما بل شارٹن نے آڈیٹر جنرل سے جانچ کے لیے درخواست روانہ کی ہے۔

آگر آڈیٹر جنرل اس معاملے پر جانچ کو قبول کر لیتے ہیں تو وہ صرف سرکاری پیسے کے استعمال کی ہی جانچ کر سکیں گے۔

آسٹریلوی حکومت کے وزرا نے مختلف قسم کے بیانات دیے ہیں۔ بعض نے ان الزامات کی تردید کی ہے تو بعض نے اس پر کچھ کہنے سے انکار کیا ہے جبکہ امیگریشن کے وزیر پیٹر ڈٹن نے پہلے تو ان الزامات کی تردید کی پھر کہا کہ حکومت نے اس مخصوص معاملے پر بیان نہیں دیا ہے۔

گرین پارٹی کے رہنما نے پولیس سے اس بات کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے کہا ہے کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنےوالوں کو رشوت دینا آسٹریلوی یا بین الاقوامی قوانین کے خلاف تو نہیں۔

ہرچند کہ گذشتہ دنوں اس تنازعے پر بحث جاری رہی تاہم حکومت نے کسی غیر قانونی عمل سے انکار کیا ہے۔

انڈونیشیا کے مشرق میں واقع صوبے نوسا ٹینگارا کی پولیس نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ مئی کے آخر میں ایک کشتی کے کپتان اور عملے کو لوگوں کو سمگل کرنے کے الزمات میں حراست میں لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا تھا کہ آسٹریلیا نے اس مسئلے کو انتہائی اخترائی انداز میں حل کیا ہے

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں تارکینِ وطن کی کشتیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جاتی۔

اطلاعات کے مطابق میانمار، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے تارکین نیوزی لینڈ جا رہے تھے کہ انھیں شمال مشرقی آسٹریلیا سے 500 کلومیٹر دور ایک جزیرے کے قریب پکڑ لیا گیا۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ آسٹریلیا کی بحریہ نے انھیں سمندر میں روکا اور پھر امگریشن حکام نے انھیں انڈونیشیا واپس جانے کے لیے پانچ ہزار ڈالر دیے۔

اسی حوالے سے ایک مقامی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ میں نے اپنی آنکھوں سے اس رقم کو دیکھا، یہ پہلہ موقع ہے جب میں نے سنا کہ آسٹریلین حکام کشتی کے عملے کو پیسے دے رہے ہیں۔‘

کچھ اسی قسم کے الزامات آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی اور ریڈیو نیوزی لینڈ کی جانب سے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرنے سے انکار اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کی کشتیوں کو روکنے کے لیے سرکاری طریقہ کار استعمال نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں