سوڈان کے مطلوب صدر جنوبی افریقہ سے بھاگ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان میں سنہ 2003 سے شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اب تک 300,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

دارفور تنازعے کے دوران جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب سوڈان کے صدر عمر البشیر جنوبی افریقہ سے بھاگ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے اتوار کو ایک عبوری حکم نامے کے تحت سوڈان کے صدر عمر البشیر کو ملک چھوڑنے سے روک دیا تھا۔

پریٹوریا کی ہائی کورٹ نے سوڈانی صدر کے خلاف ابھی اس بات کا فیصلہ دینا تھا کہ آیا انھیں دی ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت کے حوالے کرنا چاہیے یا نہیں۔

سوڈان کے صدر افریقن یونین کے ایک اجلاس میں شرکت کرنے جوہانسبرگ آئے تھے۔

عمر البشیر دارفور تنازعے کے دوران ہونے والے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں مطلوب ہیں۔

عمر البشیر کے سوڈان پہنچنے کے بعد ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ جرائم کی عالمی عدالت نے جنوبی افریقہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افریقن یونین کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے ملک میں موجود سوڈان کے صدر کو گرفتار کرے۔

جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں حراست میں لینے کی ’کوئی کوشش رائیگاں‘ نہیں جانے دینی چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان میں سنہ 2003 سے شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اب تک 300,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

پریٹوریا کی ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر موجود حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ سے جانے والے مسافروں کی فہرست میں سوڈان کے صدر عمر البشیر کا نام شامل نہیں تھا۔

تاہم سوڈان کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عمر البشیر کا طیارہ دارالحکومت خرطوم میں مقامی وقت کے مطابق شام 6:30 بجے اترے گا۔

پریٹوریا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نومسا ماسیکو کا کہنا ہے کہ یہ بات بعد از قیاس ہے کہ جنوبی افریقہ کو عمر البشیر کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماضی میں بھی بہت سے افریقی ممالک جرائم کی عالمی عدالت کے ساتھ تعاون نہ کرنے جیسے فیصلے لیتے رہے ہیں۔ افریقی رہنماؤں کا موقف ہے کہ عدالت کا رویہ ان کے ساتھ نسل پرستانہ رہا ہے۔

اسی بارے میں