القا‏‏عدہ کے سینیئر رہنما الوحیشی کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الوحیشی کو القاعدہ کی درجہ بندی میں ایمن الظواہری کے بعد دوسرے نمبر پر دیکھا جاتا تھا

القاعدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جزیرۃ العرب میں ان کی شاخ کے سربراہ ناصر الوحیشی یمن میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کی ہلاکت کا اعلان جزیرۃالعرب کی القاعدہ شاخ (اے کیو اے پی) نے ایک آن لائن ویڈیو کے ذریعے کیا ہے۔

اس ویڈیو پیغام میں تنظیم نے دو دوسرے رہنماؤں کی ہلاکت بھی تصدیق کی۔

القاعدہ کے انتہائی اہم رہنما

خیال رہے کہ الوحیشی کو القاعدہ کی درجہ بندی میں ایمن الظواہری کے بعد دوسرے نمبر پر دیکھا جاتا تھا اور وہ اسامہ بن لادن کے پرائیوٹ سیکریٹری بھی رہ چکے تھے۔

ویڈیو پیغام میں ان کے جانشین کے طور پر ملیٹری چیف قاسم ریمی کانام لیا گيا ہے۔

یمنی نیوز گروپ المصد آن لائن نے عربی میں خبر دی تھی کہ الوحیشی گذشتہ جمعے کو یمن میں ہونے والے ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

القاعدہ کے ایک سینیئر رکن خالد بطرفی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ویڈیو میں یہ خبر دی: ’جزیرۃالعرب میں ہم القاعدہ والے اپنی مسلم قوم کے لیے سوگوار ہیں کہ بصیر ناصر بن عبدالکریم الوحیشی، خدا انھیں غریق رحمت کرے، ایک امریکی حملے میں گزر گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو مجاہد برادران بھی مارے گئے۔ اللہ انھیں اپنی رحمت میں لے۔‘

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اس پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔

سائٹ انٹیلیجنس نے کہا ہے کہ اگر اس موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان میں سنہ 2011 میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے لیے سب سے بڑا دھچکہ ہو گا۔

امریکی وزارت خارجہ نے ان کے سر پر ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ’وہ حملہ کی منظوری، نئے اراکین کی بھرتی، تربیت کے لیے فنڈ دینے اور حملے کی منصوبہ بندی اور دوسروں کو حملے کا کام دینے کے لیے ذمہ دار تھا۔‘

انھیں اے کیو اے پی کا سربراہ اس وقت بنایا گيا جب سنہ 2009 میں عرب اور یمن کی القاعدہ شاخیں ایک ہو گئیں۔

اسی بارے میں