’یونان کے یورپی یونین کو چھوڑنے میں کم وقت رہ گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا ۔۔۔ یونان کو یورو زون میں رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی پڑے گی‘

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ یونان کو یورو زون چھوڑنے سے روکنے کے لیے ’بہت کم وقت‘ رہ گیا ہے اور گیند اس وقت یونان کے کورٹ میں ہے۔

الجزائر کے دورے پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’یہ فرانس پر منحصر نہیں ہے کہ وہ یونان پر مزید سخت معاشی شرائط عائد کرے بلکہ یونان پر ہے کہ وہ متبادل تجاویز پیش کرے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا ۔۔۔ یونان کو یورو زون میں رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی پڑے گی۔‘

یاد رہے کہ اتوار کو یونان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مالی امداد کے لیے یونان اور یورپی یونین کے درمیان برسلز میں ہونے والی بات چیت ناکام ہو گئی تھی۔

یورو زون وزرا جمعرات کو ملیں گے لیکن یونان کے وزیر خزانہ وروفاکس یانس نے کہا کہ وہ اس اجلاس میں نئی تجاویز پیش نہیں کریں گے۔

یانس نے جرمن جریدے بلڈ کو ایک انٹرویو میں کہا ’یورو گروپ (یورو زون کے وزرائے خزانہ کا گروپ) ایسی تجاویز پر بحث کرنے کے لیے درست فورم نہیں ہے جن پر نچلے درجے پر پہلے بحث نہ ہوئی ہو۔‘

یونان دو ہفتے میں دیووالیہ ہونے والا ہے اور اس کے باعث سرمایہ دار فکرمند ہے۔

پیر کو لندن کی سٹاک ایکسچینج 1.1 فیصد گری جبکہ جرمنی کی ایکسچینج 1.9، اور پیرس کی ایکسچینج 1.75 فیصد گری۔

امریکہ میں ڈاؤ جونز میں 0.6 فیصد گراوٹ ہوئی۔

یورپی کمیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ اتوار کو ہونی والی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ’اہم مسائل‘ اب بھی باقی ہیں۔

یورپ یونان پر زور ڈال رہا ہے کہ حکومتی اخراجات میں دو بلین یوروز کی کٹوتی کرے تاکہ مالی امداد دی جا سکے۔

جون کے آخر تک یونان کو آئی ایم ایف کا ڈیڑھ بلین یورو کا قرض اتارنا ہے اور سات بلین یورو کی مالی امداد کے لیے یونان کو معاشی اصلاحات لانی ہوں گی۔

یونان اور آئی ایم ایف اور یورپی یونین کے درمیان وی اے ٹی اور پینشن میں اصلاحات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں