عراق میں ایران کیا کھیل کھیل رہا ہے؟

شیعہ ملیشیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیعہ ملیشیا نے عراق میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے

عراقی شہر نجف کی سڑکوں پر ایران کے انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کی موت کی برسی پر پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔

مقامی ملیشیا کے جنگجوؤں کے جنازے میں ایران کے موجودہ رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر لگی ہے۔

آج کے عراق میں ہر جگہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب سے تہران نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی اس کا یہاں اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

ایک سال قبل جب دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کیا تو یہ نہ صرف بہت سے عراقیوں بلکہ ایران کے شیعہ رہنماؤں کے لیے بڑا دھچکہ تھا۔

اس بات کے امکان کے بعد کہ ایک ایسے ہمسایہ دوست ملک اور اتحادی پر سنی انتہا پسندوں کا قبضہ ہو سکتا ہے جس پر شیعہ سیاستدانوں کی حکومت ہے، تہران نے فوری ردِ عمل دکھایا۔

ایران کے لیے عراق نہ صرف شیعہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کا حامل ملک ہے بلکہ ایک اہم عرب اتحادی اور شام کے لیے زمینی پل بھی ہے۔

کچھ دنوں کے اندر اندر ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی دارالحکومت کا دفاع کرنے میں مدد کرنے کے لیے بغداد پہنچ گئے۔

انھوں نے ایران کے حامی شیعہ علما سے کہا کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملیشیا فوج کو دوبارہ تشکیل دیں جنھیں پہلے زبردستی توڑ دیا گیا تھا۔

جنرل سلیمانی کو امید تھی کہ وہ ایران کی حمایت اور اسلحے سے عراق کو متحد رکھنے میں پہل کر سکتے ہیں۔

عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کے ایک فتوے سے ان کی نادانستہ مدد بھی ہو گئی۔ آیت اللہ نے تمام صحت مند نوجوان مردوں کو کہا تھا کہ وہ عراق کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائیں۔

فتوے نے ملیشیا کے لیے مردوں کی بھرتی کو جواز دے دیا۔ بغداد اور پورے جنوب بھر میں دسیوں ہزار رضاکار بھرتی ہونے کے لیے پہنچ گئے۔

جنرل سلیمانی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ چھوٹے موٹے ہتھیار اور فنڈز تیزی سے ملیشیا کے حوالے کیے جائیں۔

ایران نے شمال میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے لیے عراقی فوج اور کردوں کو ہتھیار بھی بھیجے۔

کرد دارالحکومت اربیل اور بغداد میں حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ہتھیاروں کی تیزی سے فراہمی نے کس طرح طاقت اور حوصلے کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ اس وقت آئیں بائیں شائیں کر رہا تھا بلکہ یہاں تک کہ وہ ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبے کے ساتھ شرائط لگا رہا تھا۔

ایران نے عراقی حکومت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملیشیاؤں کو فوجی افسران اور فوجی ساز و سامان مہیا کریں۔ جلد ہی عراقی فوج کے ٹینک بغداد کے شمال میں نظر آنا شروع ہو گئے جن کو شیعہ ملیشیا کے رضاکار چلا رہے تھے اور ان پر سبز شیعہ جھنڈے اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آیت اللہ سیستانی نے عراق شیعہ نوجوانوں سے کہا کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائیں

ایران نے ملیشیا کو تربیت اور مشورے دینے لیے پاسداران انقلاب کے افسران کو تعینات کیا جنھوں نے 1980 کی دہائی میں ایران عراق لڑی تھی۔

عراقی فوجی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے بعد ایران نے اب بغداد میں ابلتے ہوئے سیاسی بحران کی طرف توجہ دینا شروع کر دی۔

اگست میں ایران نے بالآخر وزیر اعظم نوری مالکی کو تبدیل کرنے کے منصوبے کی حمایت کی۔ انھوں نے استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ سے نئی حکومت آئی جس میں زیادہ سنی اور کرد بھی شامل تھے۔

دریں اثنا امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کے لیے ایک اتحاد قائم کیا تھا۔

اگرچہ ایران اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن یہ دولتِ اسلامیہ کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ایک پینترا ثابت ہوا تھا۔

امریکی حکمتِ عملی کا انحصار زمین پر موجود کرد اور عراقی فوج پر تھا لیکن اس میں شیعہ ملیشیا شامل نہیں تھیں۔ امریکی فوجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اتحادی طیارے ’پاسداران انقلاب کے لیے ایئر فورس‘ کا کردار ادا کریں۔

لیکن حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔ چند مواقع پر ایرانی لڑاکا طیاروں نے ملیشیا کی حمایت کرنے کی غرض سے عراق کی فضائی حدود میں پرواز بھی کی تھی۔

ہر ماہ ایران نے زمین پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے علما اور ایران نواز شخصیات کی مدد کی۔

اس بہتر طریقے سے لیس ملیشیا نے اپنی فوجی طاقت، شہدا اور ایرانی رہنماؤں کے پوسٹروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عراق میں تعلقاتِ عامہ کی مہم چلائی۔

ایک سال کے بعد عراق میں درجنوں ایران نواز شیعہ ملیشیا گروپ ایران کے عسکریت پسندی کے ایران کے برانڈ کو پھیلا رہے ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان میں سے اکثر وزیر اعظم حیدر العبادی کے کنٹرول والی پاپولر موبالائزیشن تنظیم کے تحت کام کر رہی ہیں۔

اس فورس کے کمانڈر ہادی العمیری کہتے ہیں کہ تین چیزوں نے عراق کے متحد رہنے میں مدد کی ہے۔ آیت اللہ سیستانی کا فتویٰ، لوگوں کا اس کے متعلق ردِ عمل، ایران کی مدد۔

ملیشیا نے شمال اور مشرق سے دولتِ اسلامیہ کو نکالنے میں مدد کی ہے اور اب حکومت نے انھیں کہا ہے کہ وہ عراق کے تیسرے بڑے شہر رمادی کو واپس حاصل کریں جو مئی میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

امریکہ عراقی فوج سے کافی مایوس ہے، لیکن وہ ملیشیا کہ کردار کو تسلیم کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس وقت تک جب تک وہ حکومت کے کنٹرول میں رہیں۔

دریں اثنا جنوب میں شیعہ ملیشیا نے ایران کے اثر کو کربلا اور نجف جیسے مقدس مقامات تک پہنچانے میں بھی مدد دی ہے۔ گذشتہ برس تک یہاں اعتدال پسند رہنما آیت اللہ سیستانی کا اثر تھا۔ آیت اللہ خامنہ ای کے برخلاف آیت اللہ سیستانی علما کے حکومت میں کردار پر یقین نہیں رکھتے۔

لیکن لگتا ہے کہ ایران کی مدد اور ملیشیا سے منسوب خیراتی ادارے آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت کر کے آیت اللہ سیستانی کے عہدے کو چیلنج کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں