’سکھ فوجی پگڑی پہن سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’میں اس کے لیے دو تین سال سے جدوجہد کر رہا ہوں۔ میں خوش بھی ہوں اور سیکھنے کے بارے میں پرعزم بھی‘

امریکی شہر نیویارک میں پیر کے روز ایک سکھ طالب علم نے وفاقی عدالت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت انھیں اپنی داڑھی اور بال کٹوائے بغیر یا پگڑی اتارے بغیر امریکی فوج میں ملازمت کی اجازت ہوگی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی ضلعی عدالت کی جج ایمی برمن جیکسن نے جمعے کو واشنگٹن ڈی سی میں اپنا فیصلہ جاری کیا۔

اس فیصلے میں ان کا کہنا ہے کہ بیس سالہ اکنور سنگھ کا اپنے مذہبی عقائد کو برقرار رکھنے سے ان کی فوج میں اپنی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت میں کمی نہیں ہوگی۔

اکنور سنگھ کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب فیصلہ سنا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔‘

پیر کو اے پی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اس کے لیے دو تین سال سے جدوجہد کر رہا ہوں۔ میں خوش بھی ہوں اور سیکھنے کے بارے میں پرعزم بھی۔‘

اکنور سنگھ اس وقت لانگ آئی لینڈ میں ہوفسٹرا یونیورسٹی میں فنانس اور بزنس اینالیٹکس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوامی خدمت ان کا ایک خواب ہے۔ اکنور چار زبانیں بول سکتے ہیں اور فوجی انٹیلیجنس میں کام کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’فوجی افسر بننا آسان کام نہیں ہے۔ آپ کو بہت سے معاملات میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔‘

سکھ مذہب میں مردوں پر بال کٹوانے کی پابندی ہوتی ہے اور پگڑی پہننا ہوتی ہے۔

گذشتہ سال آنے والی ایک پالیسی کے تحت امریکی فوجی انفرادی بنیادوں پر مذہبی لباس اور عبادات کے لیے وقت کی اجازت مانگ سکتے ہیں۔

فیصلہ اس بات پر کیا جاتا ہے کہ فوجی کی پوسٹنگ کہاں پر ہے اور کیا اس اجازت سے ان کی ذمہ داریوں پر اثر تو نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں