کرد جنگجو شامی قصبے ’تل ابیض پر قابض‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کردوں نے ترکی کی سرحد سے ملحق شام کے شہر تل ابیض پر قبضہ تو کرلیا ہے لیکن وہاں سے بڑی تعداد میں لوگ ترکی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے

شام میں کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کی سرحد سے ملحق قصبے تل ابیض پر قبضہ کر لیا ہے اور دولتِ اسلامیہ کی رسد کا اہم راستہ بھی منقطع کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) کی جانب سے کمک روانہ کی جا رہی ہے تاکہ دولت اسلامیہ کے ہیڈکوارٹر رقہ کے جنوب میں واقع شاہراہ پر قبضہ کیا جا سکے۔

کرد کوبانی پر قابض

موصل ڈیم پر شدت پسندوں کا قبضہ ختم

تل ابیض میں جاری لڑائی نے ہزاروں لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر ترکی بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

کرد جنگجو گروپ وائی پی جی کی پیش قدمی میں امریکی فضائي حملوں اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے چند باغی گروپوں کا تعاون بھی شامل رہا۔

تل ابیض پر قبضے کے بعد کرد اب ترکی کی سرحد سے ملحق اپنے زیر انتظام دوسرے علاقوں سے رابطے میں ہوں گے جو کہ مشرق میں عراق سے لے کر مغرب میں کوبانی تک پھیلا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تل ابیض کی جنگ کی وجہ سے کئی درجن افراد خاردار تاروں سے گزر کر ترکی میں داخل ہوئے

تل ابیض میں موجود ایک کردی کمانڈر حسین كوشر نے بی بی سی کو بتایا: ’پورا شہر ہمارے قبضے میں ہے اور اب وہاں جنگ نہیں ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے لوگوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ہم شمالی شام سے دولت اسلامیہ کا خاتمہ کرنے والے ہیں۔‘

وائی پی جی کی مشرق اور مغرب سے تل ابیض کی جانب پیش قدمی اتوار کو ہوئی اور دن بھر کی جنگ کے بعد انھوں نے کئی دیہات پر قبضہ کر لیا۔

ایک وائی پی جی کمانڈر نے بتایا کہ پیر کی سہ پہر کو مشرق و مغرب کی فوجی یونٹ رقہ کی سڑک سے تل ابیض کے جنوب میں ملیں۔

شامی باغی گروپ برکن الفرات جو وائی پی جی کے ہمراہ جنگ میں شامل تھی نے کہا کہ مشرقی اور جنوبی تل ابیض میں ’شدید جنگ ہوئی ہے۔‘

یہ پہلی بار نہیں ہے جب کرد جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ کو شکست دی ہے لیکن اگر وہ تل ابیض پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتے ہیں تو یہ دولت اسلامیہ کے لیے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا ہوگا۔

کرد حملوں اور امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے 16 ہزار شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی جانے پر مجبور ہونا پڑا اور یہ پناہ گزین اکاکیلے کی سرحد پر اتوار کو پھنسے رہے کیونکہ ترکی نے اپنی سرحد بند کر رکھی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ وہ سرحد صرف انسانی سانحے کے پیش نظر ہی کھولے گي۔

اسی دوران کئی درجن افراد سرحد کی باڑ کاٹ کر ترکی میں داخل ہو گئے جبکہ بعد میں سرحد کھول دی گئی اور مقامی حکام نے بتایا کہ انقرہ سے سرحد دوبارہ کھولنے کا حکم ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی نے پہلے تو سرحد بند رکھی پھر انقرہ کے حکم پر پناہ گزینوں کے لیے سرحد کھول دی گئی

ترکی کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ پیر کو تقریبا تین ہزار پناہ گزین سرحد پار کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے اہم امریکی اہلکار بریٹ میكگرك نے کہا ہے کہ ’کرد دولت اسلامیہ کو واقعتاً شکست دے رہے ہیں۔‘

لیکن شام کی 15 باغی تنظیموں کے ایک گروپ نے کرد جنگجوؤں پر نسلی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سب تل ابیض اور اس کے نواحی علاقوں میں عرب اور ترک نژاد باشندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وائی پی جی کے ترجمان ریدر خلیل نے نے ان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔

دوسری طرف رضاکاروں اور سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ پیر کو ہونے والے ایک علیحدہ واقعے میں باغیوں نے حلب میں سرکار کے زیر انتظام ایک ضلعے پر حملہ کیا جس میں کم از کم ایک درجن افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں