’بچوں سمیت شام جانے کا خدشہ‘، گھر واپسی کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد شیعب اور اختر اقبال جس وقت میڈیا کانفرنس میں آئے تو بظاہر لگتا تھا کہ دونوں کئی دنوں سے نیند پوری نہیں کر سکے

برطانیہ کے علاقے بریڈفورڈ کی رہائشی تین بہنوں کے شوہروں نے اپنی بیویوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آ جائیں۔

تینوں بہنوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سعودی عرب میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد اپنے نو بچوں سمیت شام چلی گئی ہیں جہاں ان کا بھائی شدت پسندوں میں شامل ہو چکا ہے۔

ان تینوں خواتین کے خاندان کے مطابق انھیں گذشتہ جمعرات کو برطانیہ کے شہر مانچسٹر واپس پہنچنا تھا اور نہ پہنچنے پر ان کے لاپتہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

’برطانیہ کی رہائشی تین بہنوں کا بچوں سمیت شام جانے کا خدشہ‘

پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد کے شوہر اختر اقبال نے میڈیا کے ذریعے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا: ’میں لرز رہا ہوں، میں آپ کی کمی محسوس کر رہا ہوں، اس کو بہت زیادہ دن ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے اپنے 15 سالہ بیٹے جنید کو براہ راست مخاطب کر کے کہا: ’اگر یہ ویڈیو دیکھ رہے ہو تو پلیز مجھے فون کرو، برائے مہربانی مجھ سے رابطہ کرو، میں تم سے پیار کرتا ہوں، آپ سب سے، پلیز پلیز واپس گھر آ جاؤ تاکہ ہم معمول کی زندگی گزار سکیں۔‘

دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد کے شوہر محمد شعیب جب اپیل کر رہے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

انھوں نے اپنی 11 سال سے بیوی، پانچ سالہ محمد حسیب اور سات سالہ مریم صدیقی سے گھر واپس آنے کی التجا کی۔

’بچے میرے بغیر نہیں رہ سکتے، وہ میری بہت زیادہ کمی محسوس کرتے ہیں، آخری بار جب میں نے اپنی بیٹی مریم سے بات کی تھی تو اس نے کہا تھا کہ ڈیڈی پچھلی رات میں روئی تھی، میں ساری رات روئی تھی اور میرے بیٹے نے کہا تھا کہ وہ مجھے بہت یاد کر رہا ہے۔‘

Image caption دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد، پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد اور دو بچوں کی والدہ 33 سالہ زہرہ داؤد سے 9 جون کے بعد سے جب انھوں نے سعودی عرب کا شہر مدینہ چھوڑا تھا

انھوں نے اپنے اہلخانہ کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا: ’مجھے غصہ نہیں ہے، پلیز واپس آ جائیں، سب کچھ معمول کے مطابق ہے اور معمول کی زندگی میں واپس آ جاؤ۔‘

33 سالہ زہرہ داؤد کے شوہر پاکستان میں ہونے کی وجہ سے میڈیا کانفرنس میں موجود نہیں تھے۔

محمد شیعب اور اختر اقبال جس وقت میڈیا کانفرنس میں آئے تو بظاہر لگتا تھا کہ دونوں کئی دنوں سے نیند پوری نہیں کر سکے اور نہ ہی شادی کے کئی برس بعد پیش آنے والے اس واقعے کی وجوہات کے بارے میں کچھ بتا سکے۔

محمد شیعب اور اختر اقبال کے مطابق ان کی اپنے بچوں سے آخری بار آٹھ جون کو بات ہوئی تھی اور اس کے بعد ان کے موبائل فون بند ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کے پروفائل بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوئے۔

لاپتہ بہنوں کے خاندان کے وکیل بلال خان کے مطابق تین بہنوں کے شوہر خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں اور جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ان کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

بلال خان نے تینوں بہنیں کی شدت پسندی کی جانب مائل ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی تاثر نہیں ملا کہ وہ شدت پسندی کی جانب مائل ہو چکی ہیں۔

خیال ہے کہ ان میں سے دس افراد نے نو جون کو استنبول کی پرواز سے سفر کیا۔

مغربی یارکشائر کی پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

پولیس نے ترک حکام سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک نہ تو کسی نےگمشدہ خواتین اور بچوں کو دیکھا ہے اور نہ ان سے کسی کا رابطہ ہوا ہے۔

شام جانے والے افراد ترکی کو اپنے سفر کے لیے بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ خاندان کی ہمت بندھا رہی ہے، ان کی مدد کر رہی ہے اور ’گمشدہ لوگوں کو تلاش کرنے میں غیر ملکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘

پولیس نے گمشدہ لوگوں کے بارے میں اطلاع کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری ترجیح ان لوگوں کی خیریت سے واپسی ہے۔ان کے اہلِ خانہ بہت زیادہ پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ لوگ گھر واپس آ جائیں۔ ہماری بنیادی تشویش چھوٹے بچوں کی فلاح اور حفاظت ہے۔‘

اسی بارے میں