یونان یورپی یونین سے بے دخل ہو سکتا ہے: مرکزی بینک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مرکزی بینک کے مطابق 30 ارب یورو بینک سے اکتوبر اور اپریل کے درمیان نکلوائے گئے ہیں

یونان کے مرکزی بینک نے پہلی بار خبردار کیا ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے اور یورو زون اور یورپی یونین دونوں سے بے دخل ہونے کے ’تکلیف دہ راستے‘ پر جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونانی حکومت اور اس کے بین الاقوامی قرض خواہ مالی اصلاحات کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

اس ناکامی سے بیل آؤٹ فنڈز سے دی جانے والی 7.2 ارب یورو کی رقم رک گئی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق 30 ارب یورو بینک سے اکتوبر اور اپریل کے درمیان نکلوائے گئے ہیں۔

بینک آف گریس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے: ’کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی ایک تکلیف دہ سفر ہو گا جو ابتدائی طور پر یونان کو دیوالیہ کر دے گا اور آخرِکار ملک کو یورو زون اور ممکنہ طور پر یورپی یونین سے بے دخل کر دے گا۔‘

’ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تاریخی معاہدے کی اشد ضرورت ہے جسے ہم نظر انداز کرنا گوارا نہیں کر سکتے۔‘

اس تنبیہ سے قطع نظر، یونان کے سٹاک ایکسچینج میں 0.8 فی صد حصص کا اضافہ ہوا۔

دوسری جانب بدھ کو آسٹرین چانسلر ورنر فیمن ایتھنز میں ڈیڈلاک ختم کرنے کی آخری کوشش کے لیے موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونانی حکومت اور اس کے بین الاقوامی قرض خواہ مالی اصلاحات کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں

انھوں نے یونانی صدر پروکوپس پاولوپولوس کے ساتھ ملاقات میں کہا: ’یورپ کو مضبوط بنانے کے لیے وہ کسی بھی ملک کی مدد کریں اور اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں جس کو اس کی ضرورت ہو۔‘

یہ ملاقات جمعرات کو یوروزون کے وزرائے خزانہ کی ملاقات سے قبل ہوئی، اگرچہ حکام کی جانب سے کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

اس کے بعد یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یونکر کا سخت بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے یونانی حکومت پر ووٹروں کو گمراہ کرنے الزام لگایا۔ واضح رہے کہ یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے یورپی یونین اور مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کی ’تذلیل‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ژاں کلود یونکر کا کہنا تھا کہ یونانی حکومت نے اصلاحاتی تجاویز کے بارے میں سچائی سے آگاہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں یونانیوں پر یونانی عوام کو وہ کچھ بتانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جو میں نے یونانی وزیراعظم کو نہیں بتایا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یونکر کا کہنا تھا کہ یونانی حکومت نے اصلاحاتی تجاویز کے بارے میں سچائی سے آگاہ نہیں کیا

یونانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرض خواہ بجلی پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔

دیگر یونانی وزرا نے ادویات پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم ژاں کلود یونکر کا کہنا ہے: ’میں اس حق میں نہیں ہوں اور وزیراعظم یہ جانتے ہیں کہ بجلی اور ادویات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس بڑھانے بہت بڑی غلطی ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یونان اور یونان سے باہر یہ بحث کہیں زیادہ آسان ہوتی اگر یونان کی حکومت (عوام کو) وہی کچھ بتائے جو کمیشن نے تجویز کیا تھا۔‘

اسی بارے میں