شمالی کوریا کو ’بدترین خشک سالی‘ کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قحط کی وجہ سے صوبہ ہوانگہے کے شمالی اور جنوبی جبکہ پھیوگان اور ہمگیونگ کے جنوبی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اسے سو سال کے عرصے میں بدترین خشک سالی کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کی پہلے سے خراب صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق ملک میں چاول کی پیداوار کے مرکزی علاقے قحط سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور 30 فیصد سے زیادہ کھیت خشک سالی کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ 1990 کی دہائی میں شمالی کوریا میں قحط کی وجہ سے دسیوں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق شمالی کوریا میں غذا کی کمی مستقل مسئلہ ہے اور اس وقت بھی ملک کے ایک تہائی بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

کے سی این اے کا کہنا ہے کہ قحط کی وجہ سے صوبہ ہوانگہے کے شمالی اور جنوبی جبکہ پھیوگان اور ہمگیونگ کے جنوبی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی کوریا میں چاول کی پیداوار کے مرکزی علاقے قحط سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں

خبر رساں ادارے کے مطابق چاول کی کاشت کے لیے معروف ان علاقوں میں اب نقصان میں کمی کے لیے دیگر فصلیں کاشت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ چاول کی فصل کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور شمالی کوریا میں گذشتہ برس کم بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔

تاہم جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں موجود بی بی سی کے سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ حالیہ قحط شاید اتنا مہلک ثابت نہ ہو اور اس کی وجہ ملک میں ہونے والی زرعی اصلاحات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں اب نجی شعبے کو فارمنگ یا کھیتی باڑی کی اجازت ملنے کے بعد خوراک کی کمی اتنی نہیں ہو گی جتنی کہ ماضی میں رہی ہے۔