یمن کے دارالحکومت میں سلسلہ وار بم دھماکے، 31 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کے مطابق چار کار بم دھماکے کیے گئے

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حکام کے مطابق سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صنعا میں شیعہ مسلمانوں کے علاقے میں دو مساجد کو اس وقت بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا جب وہاں ماہِ رمضان کے آغاز پر مغرب کی نماز کے لیے نمازی جمع تھے۔

صنعا کے فوجی ہیڈ کواٹر پر بمباری

’سعودی اتحاد کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے

حکام کے مطابق سلسلہ وار ہونے والے دھماکوں میں دو کار بم دھماکے تھے اور اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہونے والی ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والے تصاویر میں بم دھماکے کا نشانہ بننے والی ایک عمارت میں آگ لگی ہوئی تھی۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے صنعا میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

Image caption یمن جنگ میں 2600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں: اقوامِ متحدہ

دولتِ اسلامیہ کی جانب آن لائن جاری ہونے والے بیان کے مطابق چار کار بم حملوں میں دو عبادت گاہوں، ایک مکان اور شیعہ حوثی باغیوں کے ایک دفتر کو نشانہ بنایا۔

صنعا میں ہی مارچ میں شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد پر ہونے والے دھماکے میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس دھماکے کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نہ قبول کی تھی۔

بدھ کو دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب یمن میں ماہِ رمضان کے دوران جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی قیادت میں پیر سے جنیوا میں فریقین کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نےاجلاس کے آغاز سے قبل فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات میں کسی امن معاہدے تک پہنچیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ لڑائی کا خاتمہ اور امن اور مصالحت کے حقیقی عمل کی شروعات کرنا فریقین کی ذمہ داری ہے

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2600 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک شدگان میں نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔

گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یمنی باشندوں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے۔

یمن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زمینی صورتحال مختلف ہے حالیہ ہفتوں میں یمن میں سعودی سرحد کے قریب حوثی باغیوں اور سعودی فوج کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ حوثی باغی جو کئی علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں ان کے لیے اب ان علاقوں سے دستبردار ہونا آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں