’اقوام متحدہ کے امن مشن میں زبردست تبدیلیاں ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے امن مشن پر جنسی زیادتیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں

اقوام متحدہ کی جانب سے تیار کروائی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عالمی ادارے کے قیام امن کے آپریشنز میں زبردست تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اس رپورٹ کی کمیشننگ ہیٹی اور لائبیریا میں سامنے آنے والے جنسی استحصال کے الزامات سے قبل کی گئی تھی۔

امن مشن کے فوجی سیکس کے بدلے اشیا دیتے ہیں: رپورٹ

اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ جو ممالک بچوں کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں انھیں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوجی فراہم کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔

رپورٹ بنانے والے پینل نے وسط افریقی ممالک میں فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال پر اٹھ کھڑے ہونے والے ہنگامے کے درمیان منگل کو یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو پیش کی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ جنسی استحصال کے ملزم فوجیوں کو مقدمے سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے اور ان کے ممالک کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائیوں کو ظاہر کریں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام امن کے مشن میں کام کرنے والے جو افراد جنسی استحصال کے مرتکب پائے جائیں، ان کے ملک کا نام لیا جائے اور انھیں شرمندہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رپورٹ تیار کرنے والے پینل کے سربراہ اور مشرقی تیمور کے سابق صدر ریموس ہورٹا نے منگل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو جنسی استحصال پر اپنی رپورٹ سونپی

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ جنسی استحصال کے الزامات کے متعلق جانچ چھ ماہ کے اندر ہونی چاہیے۔

رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ مشرقی تیمور کے سابق صدر ہوزے ریموس ہورٹا نے جنسی بدفعلیوں کو اقوام متحدہ کے لیے ’افسوسناک‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا ’اس چیز نے اقوام متحدہ کی سب سے زبردست قوت اس کی سالمیت کی نفی کی ہے۔‘

مسٹر ریموس نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے اس تاریک باب کو بند کرنے کے لیے پرعزم رہنمائی اور زبردست کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اگر جنسی استحصال کا الزام غیر فوجیوں پر لگتا ہے تو انھیں استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

ریموس نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں اقوام متحدہ کے مشن کو فوراً ہی ملزمان کے ممالک کے ساتھ تفتیش میں تعاون کرنا چاہیے۔

Image caption اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی چھ ماہ کے اندر جانچ کیے جانے کی اس رپورٹ میں توثیق کی گئی ہے

انھوں نے کہا: ’یہ بات ذہن میں بہت واضح ہونی چاہیے۔ آپ کوئی وحشیانہ فعل کرتے ہیں تو آپ کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو اس ملک کے قانون کے تحت ‎سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آپ اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے نہیں چھپ سکتے۔‘

ریموس نے بتایا کہ رپورٹ تیار کرنے والے پینل نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کو ایسے پروگراموں کا مالی تعاون کرنا چاہیے جس کے تحت جنسی استحصال کے شکار افراد کی مدد کی جا سکے اور اگر اس کی وجہ سے کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو اس کی نگہداشت ہو سکے۔

16 اراکین پر مشتمل پینل نے اقوام متحدہ سے پیش قدمی کے آپریشن کے لیے کسی ملک سے قیام امن فوج کےمطالبے میں ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کے لیے کہا۔

پینل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کو عسکری طور پر دہشت گردی مخالف آپریشنز میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اس کی صلاحیتوں سے ماورا ہے۔

اسی بارے میں