نیپولین کے بعد فرانس کو نئے ہیرو کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانسیسی معاشرے پر ابھی تک نیپولین کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں

اس سے قبل کہ واٹر لو کی جنگ میں برطانیہ کی کامیابی اور فرانس کی شکست پر لطیفے سنائے جائیں، میں آپ کو کچھ حقائق سے آگاہ کرتا چلوں۔

یہ حقیقت ہے کہ نیپولین کی آخری جنگ کی یاد میں پیرس صرف اپنا ایک سفیر ہی بھیج رہا ہے لیکن پھر بھی یہ بات حیران کن نہیں ہے۔

فرانس کو واٹرلو میں شکست ہوئی تھی لیکن کیا برطانیہ یارک ٹاؤن کے معاملے پر ڈینگیں مارتا ہے جہاں اسے شکست ہوئی تھی؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرانس نیپولین کی آخری شکست پر نہ تو ذلت محسوس کرتا ہے اور نہ ہی اُس کی کامیابی پر غرور کرتا ہے۔

گذشتہ دس برسوں میں میرانگو، آسٹرلیٹزڑ فرائیڈ لینڈ، وگرم کی برسیاں آئیں اور گھنٹی بجاتی گزر گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption واٹرلو کے محاذ پر برطانیہ نے فرانس کو شکست دی اور برطانوی فوجی جنگ کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شریک ہوتے ہیں

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تاریخی تجزیہ نگاروں کے علاوہ فرانس میں لوگ اُس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے ہیں اور یقینی طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ نیپولین بوناپارٹ نے فرانسی عوام کو ہمیشہ تذبذب میں مبتلا رکھا ہے۔

تاریخ دان، چاہے اُن کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، نیپولین پر ہمیشہ بحث کرتے رہیں گے۔

گذشتہ چند برسوں میں برطانیہ کے دو ادیبوں نے نیپولین کی سوانح عمریاں لکھیں اور نیپولین پر دونوں کی آرا ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔

ایک کے خیال میں نیپولین برا تھا جبکہ دوسرے کے خیال میں وہ بلا کا ذہین تھا۔

فرانس میں بھی نیپولین کے بارے میں ایسے ہی دلائل دیے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ فرانسیسی معاشرہ ابھی بھی نیپولین کے زیر اثر جی رہا ہے۔

شاید اس کی وجہ شہری زندگی میں نیپولین کا ورثہ ہے۔ بہت سی اصلاحات جیسے شہری کوڈ، ملک میں محکمے بنانا وغیرہ انقلاب کے بعد شروع ہوا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوم کی شان و شوکت کی یادیں ایک ہی ہیرو سے وابستہ ہیں اور یہ تاثر فرانس کی سیاست میں کبھی ختم نہیں ہوا اور بہت سے افراد اس نظریے کو یاد کرنے کو قابلِ عزت سمجھتے ہیں۔

دو سو برسوں سے فرانس کی تاریخ کو بہکاوے، لالچ اور قومی سلامتی کے خطرے کے وجہ سے پڑھا گیا۔

نیپولین کی روایت اس کے بھتیجے نیپولین سوم، اس کے بعد پیتین اور پھر ڈی گال نے دہرائی۔ تاہم نیپولین کی مخالفت سے تیسری جمہوریہ اور بائیں بازو کی مقبول جماعتوں نے جنم لیا۔

اور آج پانچواں جمہوریہ ایک ناخوش سمجھوتے کا شکار ہے اور اداروں سے دور رہنے کے نظریے کے تحت صدر کے اختیارات کو بڑھا کر انھیں نیم بادشاہ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

لیکن آج ملک گھمبیر مسئلے میں گہرا ہے اور کسی ایسے نئے ’عظیم لیڈر‘ کے لیے بیتاب ہے جو ہمیشہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی حکومت نیپولین سے دور رہنے ہی میں عافیت سمجھ رہی ہے۔

اسی بارے میں