بریڈفورڈ کی بہنیں دو گروہوں میں شام گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption خیال ہے کہ ایک گروہ بدھ جبکہ دوسرا جمعرات کو شام کی سرحد پار کر کے گیا

دولتِ اسلامیہ کے ایک انسانی سمگلر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ کی رہائشی تینوں بہنیں دو الگ الگ گروہوں میں سرحد عبور کر کے شام کے اندر داخل ہوئی ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے سرحدی آپریشن کے انچارج سمگلر کا کہنا تھا کہ پہلا گروہ بدھ کی صبح داخل ہوا جبکہ دوسرا جمعرات کو سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔

بریڈفورڈ کی رہائشی بہنیں خدیجہ، صغریٰ اور زہرا داؤد اور ان کے تین سے 15 سال کی عمر کے درمیان نو بچے سعودی سے واپس آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔

منگل کو دو بہنوں کے شوہروں نے بھی بڑے جذباتی انداز میں اپنی بیگمات سے واپس آ جانے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ انھیں بہت یاد کرتے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر پال وڈ جو ترکی اور شام کی سرحد پر ہیں کہتے ہیں کہ انھوں نے اس سمگلر سے بات کی ہے جس نے بہنوں کو سرحد پار کرایا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’اگر جو وہ کہہ رہا ہے درست ہے تو اس کہانی سے ایک اہم ابہام تو صاف ہو جاتا ہے کہ کیا بہنیں واقعی نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی طرف جا رہی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ اطلاع دولتِ اسلامیہ کے رکن ایک سمگلر سے بات چیت کے دوران ملی۔ لیکن جب اسے انٹرویو کے لیے کہا گیا تو اس نے پیسے مانگے جس سے بی بی سی نے انکار کر دیا۔

یہ اطلاع اس خبر سے بھی مطابقت رکھتی ہے کہ ایک بہن زہرا نے اپنے خاندان کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ شام میں ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اصل میں وہاں کس جگہ ہیں۔

نارتھ ایسٹ کاؤنٹر ٹیررازم یونٹ نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری رکھےگا تاکہ ان عورتوں اور بچوں کو گھر واپس لایا جا سکے۔

یہ گروہ سعودی عرب سے واپس آتے ہوئے غائب ہو گیا تھا۔

تینوں بہنیں 28 مئی کو مانچسٹر سے روانہ ہوئیں اور انھیں 11 جون تک سعودی عرب میں رہنا تھا۔ لیکن 9 جون کو سعودی عرب سے واپس برطانیہ آنے کی بجائے وہ ترکی چلی گئیں۔

انھیں آخری مرتبہ مدینہ کے ایک ہوٹل میں دیکھا گیا تھا۔

انھیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد مانچسٹر واپس لوٹنا تھا لیکن واپس نہ پہنچنے پر دو بہنوں کے شوہروں اختر اقبال اور محمد شعیب نے ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ انھوں نے آخری بار اپنے بچوں سے آٹھ جون کو بات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہنوں کے دو شوہروں نے انھیں واپس بلانے کے لیے ایک جذباتی پریس کانفرنس کی

تیسری بہن کے شوہر پاکستان میں تھے۔

تینوں بہنوں نے بچوں کے ساتھ نو جون کو براستہ استنبول واپس آنا تھا۔

اس سے پہلے تک ایک ہفتے تک ان خواتین کا اپنے خاندان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔

واضح رہے کہ شام جانے والے افراد اکثر ترکی کے راستے وہاں پہنچتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان بہنوں کا بھائی احمد داؤد شام میں شدت پسندوں کے لیے لڑ رہا ہے۔ شام کے کچھ حصوں پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔

تینوں بہنیں اور ان کے بچوں نے پہلے پہل جو ٹکٹ بک کرائے تھے ان کے مطابق مارچ کی 19 تاریخ کو انھیں مذہبی سفر کی غرض سے مانچسٹر سے جدہ جانا تھا۔

تاہم اس خاندان کو سکیورٹی حکام نے روک لیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جس کی وجہ سے وہ اس پرواز میں سوار نہ ہو سکیں۔

بریڈفورڈ کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے غائب ہونے سے پہلے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس خاندان یا ان کے بچوں کی حفاظت کے کچھ مسائل ہیں۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ایک بہن صغریٰ کے شوہر اقبال نے اپنی بیوی سے بہت جذباتی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’میں کانپ رہا ہوں اور میں تمہاری کمی محسوس کرتا ہوں۔ بہت دن ہو چکے ہیں۔‘

دوسری بہن خدیجہ کے شوہر شعیب نے ان سب باتوں کو رد کیا کہ وہ بہنیں خاندانی تعلقات کی وجہ سے ناخوش تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے اور 11 سال سے ان کی بیوی کے درمیان ’بہترین رشتہ‘ تھا۔

تیسری بیوی زہرہ داؤد کے شوہر سید زبیر احمد پریس کانفرنس میں موجود نہ تھے کیونکہ وہ آج کل پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں بی بی سی بات کر تے ہوئے کہا تھا کہ وہ سات ماہ پہلے برطانیہ سے اس وقت چلے آئے تھے جب ان کی بیوی نے ان سے’گریز‘ کیا۔ تب سے انھوں نے اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔ انھیں کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ ان کی اہلیہ شام جانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ کی حکومت اس خاندان کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

مسلم فورم کے چیئرمین منظور مغل شام اور عراق جانے والوں کے خاندان والوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ دوسرے پر لامتناہی طور پر انگلیاں اٹھاتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کمیونٹی کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

ایسا اس وقت ہو رہا ہے جب وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے انتہا پسندانہ نظریات کو خاموشی سے نظرانداز کرنے والوں کے متعلق خبردار کیا ہے۔

سلواکیا کے دارالحکومت براٹیسلاوا میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بنیاد پرستی کو منبع سے ہی نمٹنے پر زور دیا۔

اسی بارے میں