چارلسٹن کے سیاہ فاموں کو ڈرنا چاہیے تھا۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چارلسٹن میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں گرجا گھروں میں دعائیں مانگی جا رہی ہیں

چارلسٹن کے چرچ پر حملے کے بعد جب ریاست جنوبی کیرولائنا کی بھارتی نژاد گورنر نکی ہیلي ٹی وی کیمروں کے سامنے آئيں تو انہوں نے رندھي ہوئی آواز میں کہا: ’جنوبی كیرولائنا کا دل ٹوٹ گیا۔‘

لیکن بہت سے لوگ شاید کہیں گے کہ نکی ہیلي کو کہنا چاہیے تھا کہ جنوبی كیرولائنا کا دل ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔

چارلسٹن کے جس چرچ میں یہ قتل عام ہوا، یہ وہی چرچ تھا جسے 1820 کی دہائی میں شہر کی سفید فام آبادی نے اس الزام پر جلا کر راکھ کر دیا تھا کیونکہ وہاں سیاہ غلام بغاوت کی سازش کر رہے تھے۔

اس چرچ کی بنیاد ركھنے والے ڈنمارک ویسی اور ان کے بہت سے سیاہ فام ساتھیوں کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

ویسی خود بھی غلام رہ چکے تھے اور لاٹری میں جیتی گئی رقم سے انھوں نے اپنے مالک سے اپنی آزادی خرید لی تھی لیکن اپنی بیوی کو آزاد نہیں کروا پائے تھے اور اس وقت کے قانون کے مطابق ان کے جو بھی بچے ہوئے وہ اس مالک کی جائیداد یعنی غلام تھے۔

بدھ کی رات جب ایک سفید فام نوجوان اس چرچ میں گھسا تو وہاں بیٹھے لوگوں میں 87 سال کی سوزي جیکسن، 74 سالہ ریورنڈ ڈینیل سمز اور 70 سال کی اتھل لیس بھی شامل تھے، جنھوں نے اپنی زندگی میں ایسے مقامات کو دیکھا ہوگا، جہاں لکھا ہوتا تھا: ’سیاہ فاموں کا داخلہ منع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی کیرولائنا کی بھارتی نژاد گورنر نکی ہیلي ٹی وی کیمروں کے سامنے آئيں تو انھوں نے رندھي ہوئی آواز میں کہا: ’جنوبی كیرولائنا کا دل ٹوٹ گیا۔‘

ان لوگوں نے سیاہ فاموں اور سفید فاموں کے لیے نصب الگ الگ نلكوں سے پانی پیا ہو گا، سنہ 1963 میں قریبی الاباما ریاست میں سیاہ فاموں کے ایک چرچ پر ہونے والے بم دھماکے کی تصاویر دیکھی ہوں گی، جس میں چار بچیاں ماری گئی تھیں۔

لیکن کیا انھیں یہ ڈر رہا ہو گا کہ 21ویں صدی میں جب ملک کا صدر اور انصاف کی باگ ڈور سنبھالنے والی اٹارنی جنرل سیاہ فام ہیں، ریاست کی گورنر بھارتی نژاد ہیں اور کانگریس میں ریاست کی نمائندگی کرنے والا ایک سینیٹر سیاہ فام ہے، تو ان کے اپنے ہی چرچ میں گھس کر کوئی ان کی جان لے لے گا؟

اس سوال کا جواب وہ اب نہیں دے سکتے لیکن شاید انھیں ڈرنا چاہیے تھا۔

دو ماہ پہلے ہی پڑوس کے ایک شہر میں ایک سفید فام پولیس والے نے ایک نہتے سیاہ فام شہری کو گولی مار دی تھی۔

کبھی فرگوسن تو کبھی بالٹی مور، ہر روز ہونے والے احتجاج دیکھ کر انھیں شاید سمجھ جانا چاہیے تھا کہ امریکہ اب بھی رنگ، نسل اور مذہب کی دیواروں کو توڑ نہیں پایا ہے۔

اور اس ماحول میں اگر بندوق تیل اور صابن کی طرح دکانوں میں بکے تو پھر تو ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا والی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس حملے کے الزام میں گرفتار ہونے والے نوجوان ڈلن روف کو بھی ان کے ایک رشتہ دار نے حال ہی میں ان کے سالگرہ پر تحفتاً بندوق دی تھی۔

امریکی صدر اوباما نے ایک بار پھر بندوق کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار پھر سے بےگناہ مارے گئے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حملہ آوروں کو اسلحہ ملنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔

سنہ 2008 میں اوباما کی جیت کے بعد میں چارلسٹن گیا تھا تو ان کی جیت، ان کی امید بھری آواز سیاہ فام لوگوں کے لیے ایک خواب کی طرح تھی اور وہ کسی جادو کی توقع کر رہے تھے۔

آج انھی کی آواز میں مایوسی اور بے بسی سنائی دیتی ہے۔

جنوبی كیرولائنا میں امریکی پرچم سرنگوں ہے لیکن غلامی اور نسل پرستی کے حق میں بندوق اٹھانے والوں کی نمائندگی کرنے والا كنفیڈریٹ فلیگ لوگوں کے احتجاج کے باوجود اب بھی ایک عمارت پر لہرا رہا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی یاد میں گرجا گھروں میں دعائیں مانگی جا رہی ہیں اور مقامی اخبار کی شہ سرخی ہے: ’چرچ پر حملے میں نو ہلاک‘ اور اس شہ سرخی کے ٹھیک اوپر چمک رہا ہے ایک سرخ رنگ کا اشتہار ۔۔۔ بندوق کی ایک دکان کا۔

اسی بارے میں