فیس کے لیے ’شوگر ڈیڈی‘ کا سہارا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شوگر ڈیٹنگ کی ویب سائٹ پر یونیورسٹیوں کی کئی طالبات رجسٹرڈ ہیں

اسے خوش کن الفاظ میں دونوں کے لیے ایک مفید لین دین کی ڈیٹنگ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا شوگر ڈیڈی کا رشتہ جنسی تعلق یا جسم فروشی کے لیے ایک اور سادہ اصطلاح ہے؟

فریا 22 سال کی ہیں اور انھوں نے جوگنگ بوٹم اور ٹی شرٹ پہن رکھی ہے۔ وہ بغیر کسی تصنع اور اعتماد کے اپنا اظہار کرتی ہیں۔

وہ یونیورسٹی میں ہی تھیں جب انھوں نے بڑی عمر کے لوگوں ساتھ سونا شروع کر دیا تھا۔ فریعا کہتی ہیں کہ ’مجھے سیکس سے پیار ہے۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ میں اس میں بہت اچھی ہوں۔ اس لیے ایک یا دو شوگر ڈیڈی رکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔‘

فریا برطانیہ میں قرض میں پھنسے یونیورسٹی کے طالب علموں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ’شوگر بے بی‘ بننے کا فیصلہ کیا۔ ان نوجوان لڑکیوں نے بڑی عمر کے امیر لوگوں کے ساتھ کھانے اور وقت گزارنے کا فیصلہ کیا جن کو شوگر ڈیڈی کہا جاتا ہے جو انھیں کیش اور تحائف بھی دیتے ہیں۔

فریا کہتی ہے کہ ’میرے شادی شدہ شوگر ڈیڈی نے مجھے ایک رات کے 1000 پاؤنڈ دیے۔ وہ صرف سیکس کرنا چاہتے تھے۔ میرے طلاق یافتہ شوگر ڈیڈی نے مجھے 1000 سے 2000 پاؤنڈ الاؤنس میں دیا۔‘

یونیورسٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فریا نے بہت محنت کی ہے۔

’پہلے سال میں دو نوکریاں کرتی تھی۔ ایک بار میں پانچ پاؤنڈ فی گھنٹہ کام کیا جو کہ ایک بہت برا تجربہ تھا اور اس سے میری پڑھائی متاثر ہو رہی تھی۔ لیکن اس طرح اپنے شوگر ڈیڈیز کے ساتھ میں اپنی پڑھائی پر 100 فیصد دھیان دیتی اور آخر میں میں اول آئی۔ میرا مطلب ہے کہ ہاں یہ جسم فروشی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک مضحکہ خیز رسوائی وابستہ ہے۔‘

اس بات کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ جسم فروشی کر رہی ہیں، فریا کہتی ہیں کہ اس رشتے پر ان کا کافی کنٹرول ہے۔ ’وہ کافی پرکشش آدمی تھے، میں بڑی احتیاط سے انتخاب کرتی ہوں۔‘

فریا کی ماں میری بھی انٹرویو دینے کے لیے رضامند ہو گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے کریئر پر حیران نہیں ہیں۔

’درحقیقت مجھے اس پر فخر ہے۔ میرے خیال میں ایسا کرنا ایک بہادری کا کام ہے اور مجھے خوشی ہے کہ وہ اس پر میرے ساتھ بات کرنا چاہتی تھیں۔ یقیناً میرے سبھی دوست اس پر بہت حیرت زدہ تھے۔‘

میری کہتی ہیں کہ خاندان کے لیے پیسے کی بہت تنگی تھی۔ ان کو طلاق ہو چکی تھی اور ان کی مزید بچیوں نے بھی یونیورسٹی جانا تھا۔

’جب تک مجھے لگا کہ وہ اپنے کام سے واقعی خوش ہے اور اس سے لطف اٹھا رہی ہے مجھے اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا اور میرے خیال میں یہ مسئلے کا ایک اچھا حل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ نوجوان لڑکیاں بڑی عمر کے لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس تعلق پر زیادہ تر کنٹرول ان کا ہوتا ہے

’ہر بچہ کوئی نہ کوئی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ میری بیٹی خوبصورتی اور جنسی کشش لے کر پیدا ہوئی۔ یہ بالکل ایک تجارتی شے کی طرح ہے۔‘

شوگر ڈیٹنگ ویب سائٹیں سیکس کی خرید و فروخت کا وسیلہ نہیں بن سکتیں، وہ اس سے قانونی شکنجے میں پھنس سکتی ہیں۔ لیکن اس میں صرف بہت ہی سادہ لوح ہی پھنسے گا۔

ایک ویب سائٹ کے اشتہار میں ایک نرم لہجے والی خاتون کہتی ہیں: ’شوگر بے بی یونیورسٹی میں اپنا نام درج کروائیں اور ایک بڑے مخیر سپانسر کو اپنی تعلیم کا خرچہ اٹھانے دیں۔‘

انجیلا برمودو اس وی سائٹ کی پی آر ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نہیں کہوں گی کہ سیکس متوقع ہے، میں یہ کہوں گی کہ سیکس کی آرزو کی جاتی ہے۔‘

’ایک شوگر بے بی کو ماہانہ الاؤنس سے اقتصادی استحکام ملتا ہے۔ اور ایک گرو اور نیٹ ورکنگ کے بھرپور مواقع ملتے ہیں۔ برطانیہ میں ہماری زیادہ تر شوگر بے بیز طالبات ہی ہیں۔‘

28 سالہ شوگر بے بی الانا کہتی ہیں کہ ’حقیقت میں طاقت کا اختیار نوجوان لڑکیوں کے پاس ہی رہتا ہے۔‘

’میرے پاس طاقت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی لڑکیوں کو یونیورسٹی کی فیس کے علاوہ بڑے قیمتی تحائف دیے جاتے ہیں

الانا کہتی ہیں کہ ’شوگر کی دنیا‘ بالغوں کے لیے ڈزنی کے پلے گراؤنڈ جیسی ہے۔ ’میں بھول چکی ہوں کہ میرے پاس کتنے لوئی ویٹونز (مہنگے پرس) ہیں، اور ہاں تعطیلات ۔ نیو یارک، بہاماس وغیرہ۔‘

الانا کہتی ہیں کہ ان کے پاس اس وقت 13 شوگر ڈیڈی ہیں لیکن ماضی میں ان کے پاس کم از کم 40 شوگر ڈیڈی رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً سبھی کا تعلق نجی ایکویٹی یا ہیج فنڈ سے تھا۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انھوں نے ان میں سے صرف تین کے ساتھ ہم بستری کی تھی۔

’مجھے ہمیشہ جو چاہیے وہ میں لے لیتی ہوں۔ اور یہی سارا مقصد ہے۔ آپ کو سسٹم کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ اگر آپ ہڈی لٹکائیں گے تو وہ آتے رہیں گے۔‘

وہ اب 28 برس کی ہیں اور ان کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں۔

’کبھی کبھار آپ اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ آپ رات گئے تک فلم دیکھ رہے ہیں اور آپ کو کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ صرف کوئی مرد دوست نہیں بلکہ آپ کا پارٹنر، آپ کا بوائے فرینڈ۔‘

’لیکن کیا یہ میرے لیے کافی ہو گا؟ کیا وہ مجھے مطمئن کر سکے گا؟‘

38 سالہ مائیک آئی ٹی سیکٹر میں کام کرتے ہیں اور ان کے پاس پیار ڈھونڈنے کا وقت نہیں ہے۔ اس لیے وہ گذشتہ تین برس سے شوگر بے بیز سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ وہ آج کل شوگر بے بی کو 2000 پاؤنڈ دیتے ہیں اور اس کے علاوہ 1000 شاپنگ الاؤنس بھی دیتے ہیں۔ وہ اب روایتی تعلق کو نہیں تلاش کرتے۔

’میں ایک ایسے انسان کو پیسے دے رہا ہوں جس نے خاص قسم کا تعلق اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں طرف ہی توقعات وابستہ ہیں۔‘

مائیک کہتے ہیں کہ ’میں پیچھے مڑ کر اپنے والدین کو دیکھتا ہوں۔ وہ 70 کی دہائی میں ہیں اور ان کی شادی کو 50 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ آج بھی میرے والد میری ماں کے اکاؤنٹ میں ہر ہفتے پیسے ڈالتے ہیں۔ تو کیا فرق ہوا؟‘

کیتھرین برطانیہ کی ایک اچھی یونیورسٹی میں طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فائنل امتحان کے بعد وہ شوگر کا بندوبست ختم کر دیں گی۔

وہ اپنے شوگر ڈیڈی مارک کی تعریف کرتی ہیں اور اسے ’زمین پر سب سے زیادہ مہربان شخص کہتی ہیں جو میرے ہر فیصلے کا احترام کرتا ہے۔‘

وہ گذشتہ ایک سال سے کیتھرین کا کرایہ اور ٹیوشن فیس دے رہا ہے۔

اپنے تعلق کے آغاز سے ہی کیتھرین سمجھتی تھیں کہ وہ مارک کے ساتھ جسمانی تعلق نہیں رکھیں گی۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد ہی ان کا یہ عہد ختم ہو گیا۔ ’مجھے پیسہ لیتے اور اس کے بدلے کچھ نہ دیتے ہوئے بہت برا لگا۔‘

اس کے بعد کیتھرین کے جسمانی تعلق شروع کرتے ہی بندوبستی فیس 700 پاؤنڈ سے بڑھ کر 1200 پاؤنڈ ہو گئی۔

21 سالہ ریچل اس طرح کے بندوبست کے خطرات سے بھی واقف ہیں۔ وہ ایک اچھی یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ جلدی پیسہ کمانے کا ایک آسان راستہ ہے۔ انھوں نے اس کا فیصلہ اس وقت کیا تھا جب ان کے والدین پیسے پر آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

ان کا پہلا تجربہ بہت برا تھا کیونکہ ان کے پہلے شوگر ڈیڈی نے ایک کار پارک میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن پیسے کی ضرورت نے انھیں ایسا کرنے پر دوبارہ مجبور کیا۔

گذشتہ 18 ماہ سے وہ ایک شخص سے مل رہی ہیں جو 50 کے پیٹے میں ہے۔ وہ اس کے ساتھ کبھی نہیں سوئیں۔

’وہ صرف کمپنی چاہتا ہے اور بہت اکیلا ہے۔ جب ہم ڈنر کے لیے ملے تو اس نے مجھے 100 پاؤنڈ دیے اور نصاب کی کتابیں خریدنے میں بھی میری مدد کی۔‘

اب ریچل نے اس کے ساتھ تعلق ختم کر دیا ہے۔ یہ انھوں نے اس لیے نہیں کیا کہ وہ بہت زیادہ مطالبات کرتا تھا بلکہ ایسا اس لیے ہوا کہ ریچل سمجھنے لگی تھیں کہ وہ اس کا استحصال کر رہی ہیں۔

’حقیقت میں میں اسے بطور انسان پسند کرتی تھی اور مجھے بس ایسا لگا کہ میں اس کا فائدہ اٹھا رہی ہوں۔‘

اسی بارے میں