چین اور امریکہ، تعلقات میں کشیدگی بھی، امید بھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئندہ ہفتے چینی اور امریکی حکام عسکری اور اقتصادی معاونت کے لیے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے

چین اور امریکہ کے سینیئر اہلکار واشنگٹن میں ملاقات کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ دونوں ممالک ساتھ ہی ساتھ دوستی بڑھانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

چین اور امریکہ بحیرۂ جنوبی چین میں ایک خطرناک کھیل میں ملوث ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں بھی ماحول سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

عسکری معاونت کے سلسلے میں جنرل فان چانگ لونگ نے اپنے دورے پر امریکی فوج سے بات کی۔ بیجنگ میں حکام کا کہنا ہے کہ اب وہ بحیرۂ جنوبی چین میں تعمیراتی کام روکنے کے لیے تیار ہیں تاہم وہ پہلے ہی مصنوعی جزیرے، لائٹ ہاؤس اور رن وے بنا چکے ہیں۔

16 جون کو چینی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ادھر امریکی حکام اس اعلان سے زیادہ خوش نہیں ہیں مگر ان کے خیال میں یہ مثبت اقدام ہے، اور اس اعلان کا وقت محض اتفاق نہیں۔

آئندہ ہفتے چینی اور امریکی حکام عسکری اور اقتصادی معاونت کے لیے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے اور بحیرۂ جنوبی چین کا معاملہ زیرِ بحث ضرور آئے گا۔ ادھر ستمبر میں صدر شی جن پنگ جب امریکہ آئیں گے تو یہ معاملہ بھی اہمیت رکھے گا۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ چین نے بحیرہ جنوبی چین میں دو ہزار ایکڑ کی اضافی زمین بنا کر اس علاقے پر اپنا دعویٰ کر لیا ہے۔

جنرل فان چانگ لونگ کی پینٹاگون میں میزبانی کرنے والی امریکی فوجیوں کی کوشش ہو گی کہ یہ اختلافات ختم ہو جائیں۔

چین کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ جزائر فلاحی مقاصد کے لیے بنائے ہیں، لیکن دوسری جانب خدشہ ہے کہ یہ جزائر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ان جزائر کی تعمیر سے فلپائن، ویتنام اور خطے کے دیگر ممالک کو خدشہ ہے۔

ادھر امریکہ کی جانب سے بھی ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز اور طیارے علاقے کی نگرانی کرتے رہیں گے، چاہے چینی حکومت جو بھی دعوے کرتی رہے۔

ایک امریکی طیارہ جس پر سی این این کا عملہ بھی سوار تھا، اس کے چینی دعوے والے علاقے میں داخل ہونے کو کیٹو انسٹیٹیوٹ کے ڈگ بینڈو ایک اشتعال انگیز حرکت سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ امریکی حکام کہتے ہیں کہ چینی حکومت نے لاکھوں امریکی سرکاری نوکروں کے بارے میں فائلیں چوری کیں تاہم چین اس الزام کی تردید کرتا ہے

ادھر نام نہ ظاہر کی شرط پر امریکی حکام کہتے ہیں کہ چینی حکومت نے لاکھوں امریکی سرکاری اہلکاروں کی فائلیں چوری کیں تاہم چین اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

یہی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے چینی اور امریکی اہلکار پریشان ہیں۔ اور عام مقامات پر جب دونوں ممالک کے فوجی رہنما ملتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں۔ ایک مشترکہ تقریب میں دونوں فوجوں کی جانب سے قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد کرنے کے سلسلے میں تعاون کا جشن منایا جا رہا تھا۔

مگر اس تقریب میں دونوں فوجوں کی جانب سے اعلیٰ ترین افسران کی بیٹھنے کی جگہ کا معاملہ رکاوٹ بن کر سامنے آ گیا۔ کچھ بحث ہوئی اور کچھ تکرار۔ آخرکار امریکہ اہلکاروں کو مہمانوں کے لیے متعین جگہیں تبدیل کرنا پڑیں تاکہ تقریب کا انعقاد ہو سکے۔

نیشنل دفاعی یونیورسٹی کی اس تقریب میں چینی جنرل اوڈینرو نے کہا: ’اگرچہ کبھی کبھی ہمارے ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ ہم تعاون کریں۔‘

چاہے معاملہ کرسیوں کا ہو یا جزیروں اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مداکرات کو ایک نازک توازن رکھنا ہو گا۔

اسی بارے میں