چین: تھانے پر دھاوا بولنے کے جرم میں 13گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کے مداخلت کرنے پر اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور ان سے خاتون کی لاش کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا

وسطی چین میں جمعے کے روز سینکڑوں دیہاتیوں کے ایک تھانے پر دھاوا بولنے کے بعد پولیس نے 13 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ ماہ ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد حکام کی جانب سے بظاہر تفتیش میں کوتاہی کے باعث ہنان صوبے کے ایک گاؤں کے رہائشی پولیس سے ناراض ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی ہلاکت کیڑے مارنے کی دوا کھانے کی وجہ سے ہوئی جبکہ ان کے رشتے داروں نے خاتون کے شوہر کے ملوث ہونے کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔

مظاہرے کے موقعے پر مداخلت کرنے والے حکام اور ہلاک خاتون کے شوہر نے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی تو ہجوم نے انھیں مارا اور حکام کو یرغمال بنا لیا۔

ریاستی میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز اس خاتون کی لاش کو جب ان کی ساس کے گھر میں آخری رسومات کے لیے رکھا گیا تو وہاں حالات بگڑ گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی مداخلت کرنے پر اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور ان سے خاتون کی لاش کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔

اگلے روز ہی سینکڑوں مظاہرین پولیس تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور مقامی پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حالات بہتر کرنے کے لیے بہت سے غیر مقامی پولیس اہلکاروں کو بلوانا پڑا ہے۔

اسی بارے میں