اسامہ کے بیٹے کا امریکہ سے ڈیتھ سرٹفکیٹ کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسامہ بن لادن دو مئی 2011 کو پاکستان میں ایک امریکی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے

انٹرنیٹ پر خفیہ راز افشا کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے نے امریکی حکومت سے اپنے والد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

وکی لیکس کے مطابق سعودی عرب میں موجود امریکی سفارتخانے کو یہ خط سنہ 2011 میں بھجوایا گیا تھا اور یہ وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ 60 ہزار دستاویزات میں سے ایک ہے۔

’اسامہ کی موت حقیق یا فسانہ‘

ویب سائٹس رپورٹ کے مطابق جنرل گلین کیسر نے اسامہ بن لادن کے بیٹے عبداللہ بن لادن کو سنہ 2011 میں لکھا کہ وہ انھیں ڈیتھ سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کر سکتے۔

وکی لیکس کی جانب سے سعودی عرب کی پانچ لاکھ دستاویزات جاری کی جا رہی ہیں۔

اس ویب سائٹ پر سب سے پہلے سنہ 2010 میں امریکی خفیہ دستاویزات کو جاری کیا گیا تھا۔

یہ سامنے آیا ہے کہ امریکی سفارتخانے نے اسامہ بن لادن کے بیٹے کی درخواست کا جواب نو ستمبر 2011 یعنی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے چار ماہ بعد دیا۔

امریکی سفارتخانے کے اس جوابی خط میں وضاحت ملتی ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا ۔

تاہم ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے بجائے جنرل گلین کیسر نے امریکی عدالت کا ریکارڈ فراہم کر دیا تھا جس سے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق ہوتی ہے۔

اس جوابی مراسلے میں بھجوائے گئے ریکارڈ کو عربی ترجمے کے ساتھ بھی ارسال کیا گیا تھا۔

جنرل گلین کیسر کی جانب سے عبداللہ بن لادن کو لکھی جانے والی تحریر کے اختتامی الفاظ کچھ یوں تھے۔

’مجھے امید ہے کہ امریکی حکومت کی یہ دستاویزات آپ اور آپ کے خاندان کی رہنمائی کریں گی۔‘

یہ بات اب تک سامنے نہیں آسکتی کہ عبداللہ بن لادن نے اپنے والد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کیوں کیا تھا؟

’سعودی خفیہ دستاویزات‘

وکی لیکس کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ پانچ لاکھ سعودی خفیہ دستاویزات شائع کرے گی۔

یہ ابھی سامنے نہیں آیا کہ ان دستاویزات تک رسائی کیسے حاصل کی گئی، تاہم تحریری بیان میں ویب سائٹ نے اعلان کیا کہ یمنی سائبر آرمی کے ہیکرز گروپ نے مئی 2015 میں سعودی وزارتِ خارجہ کے ان خفیہ مراسلوں تک رسائی حاصل کی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ دیگر مراسلوں میں ایران کےجوہری مذاکرات اور انقلابِ مصر پر بات ہوئی تھی۔

اسی بارے میں